کسر صلیب — Page 151
G 101 تبدیلی کی جاسکتی ہے۔کیا جس کو اب تک آب کہا جاتا رہا ہے اس کو ابن اور جس کو ابو کہا جاتا رہا ہے اس کو آپ کہا جاسکتا ہے ؟ اگر نہیں تو کوئی وجہ یا صنفت ضرور ہوگی جس کی وجہ سے ناموں میں تبدیلی نہیں ہو سکتی۔گویا ایک اقنوم میں کوئی ایک امتیازی صفت ضرور ہے جو دوسروں میں نہیں پائی جاتی۔اگر ایسا مان لیا جائے تو تثلیث باطل ہو جاتی ہے۔پس اس دلیل کا خلاصہ یہ ہے کہ تینوں اقانیم کیسے لئے الگ الگ نام کس فرق پر دلالت کرتے ہیں۔اگر فرق نہیں تو اسمی تفریق بے معنی ہے اور اگر واقعی فرق ہے تو تثلیث باطل ہے حضرت مسیح تو موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ :۔خداتعالی کے لئے ضروری ہے کہ وہ ستجمع جمیع صفات کاملہ ہو تو اب یہ تقسیم جو کی گئی ہے کہ ابن اللہ کامل خدا اور باپ کامل خدا اور روح القدس کامل خُدا اس کے کیا معنے ہیں۔اور کیا وجہ ہے کہ یہ تین نام رکھے جاتے ہیں کیونکہ تفریق ناموں کی اس بات کو چاہتی ہے کہ کسی صفت کی کمی بیشی ہو مگر جب کہ کسی صفت کی کمی بیشی نہیں تو پھر وہ تینوں اقنوم میں مایہ الامتیانہ کون ہے جو ابھی تک آپ لوگوں نے ظاہر نہیں فرمایا جس امر کو آپ ما بہ الامتیانہ قرار دیں گے وہ بھی منجملہ صفات کا ملہ کے ایک صفت ہوگی جو اس ذات میں پائی جانی چاہیئے جو خدا کہلاتا ہے۔اب جبکہ اس ذات میں پائی گئی۔جو خدا قرار دیا گیا تو پھر اس کے مقابل پر کوئی اور نام تجویز کر نامعینی ابن الہ کہنا یا روح القدس کہنا بالکل لغو اور بے ہودہ ہو جائے گا۔اے تير هو دليلك تثلیث کے علمبر دار عیسائی حضرات اپنے موقف کو ثابت کرنے کے لئے عجیب و غریب ں دیتے ہیں کی بھی قدیم افسانوں کا سہارا ڈھونڈتے ہیں اور کبھی عقل کا غلط استعمال کرتے ہیں سید نا حضرت مسیح پاک علیہ السلام نے جن کو خدا نے کا سر صلیب بنا کر بھیجا ہے عیسائیوں کے ان سب حراوی کا دندان شکن جواب دیا ہے۔آپ کے علم کلام کا ایک خاص پہلو یہ ہے کہ آپنے دشمن کی دلیل کو ایسے طور پر توڑا کر خود اس کو اس دلیل کی رو سے عزم کر دیا یہ خداداد اعجازی علم کلام کا ایک نمایاں وصف ہے جو آپ کے علم کلام میں نظر آتا ہے۔اس کی ایک مثال کا یہاں ذکر کرتا ہوں۔: جنگ مقدس ص ۲ روحانی خزائن جلد ۶ :