کسر صلیب

by Other Authors

Page 150 of 443

کسر صلیب — Page 150

۱۵۰ وجہ یہ ہے کہ خداؤں کی کثرت یا تو کسی خاص ضرورت کی وجہ سے ہوگی اور یا کسی ایک کی کمی کو پورا کرنے کے لئے ہوگی۔ان دونوں صورتوں میں تثلیث پر سخت نزد پڑتی ہے۔اعتراض یہ ہے کہ جب عیسائی صاحبان کے عقیدہ کے مطابق ہر اقنوم اپنی ذات میں کامل اکمل اور مستقل حیثیت کا مالک ہے اور اسے نہ کسی چیز کی حاجت ہے اور نہ کسی چیز کی کم تو پھر ایک دوسرا بلکہ تیسرا اقنوم بنانے کی کیا ضرورت ہے؟ کونسی کمی ہے جس کو پورا کیا گیا ہے اور کونسی احتیاج ہے جنسی اس بات پر مجبور کیا ہے ؟ ظاہر ہے کہ عیسائی اس بات کا کوئی تسلی بخش جواب نہیں دے سکتے۔سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس بات کو تثلیث کے رد میں ایک دلیل کے طور پر پیش فرمایا ہے۔آپ فرماتے ہیں :- جس حالت میں تین اقدم صفات کا ملہ میں برا بہ درجہ کے ہیں تو ایک کامل اقنوم کے موجود ہونے کے ساتھ جو جمیع صفات کاملہ پر محیط ہے اور کوئی حالت منتظرہ باقی نہیں۔کیوں دوسرے اقنوموں کی ضرورت ہے یا لے بات سوين دليك حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تثلیث کے عقیدہ کے رد میں ایک اور دلیل یہ بیان فرمائی ہے کہ عیسائی تمین خدائی کے نام الگ الگ تجویز کرتے ہیں۔ظاہر ہے کہ ان تینوں میں کچھ نہ کچھ فرق ضرور ہوگا۔ورنہ کوئی وجہ نہیں کہ ایک کی بجائے تین نام رکھے جائیں۔جب ان تینوں وجودوں میں مسیر مو کوئی فرق نہیں تو تین الگ الگ نام رکھنے بے معنی ہیں۔اور اگر یہ کہا جائے کہ ان میں کوئی فرق ہے تو ان میں درجہ بندی اور مرتبہ کی کمی بیشی لازم آئے گی جو الوہیت کی شان کے منافی ہے الوہیت کی شان تو یہ ہے کہ خدا اس تجمع جمیع صفات کا ملہ ہو۔اگر ایک بھی صفت میں کمی واقع ہو تو وہ خدا نہیں ہو سکتا۔نظریہ تثلیث کے مطابق تینوں اقانیم Co-Etemal : اور Co-Equal ہیں۔اگر یہ بات درست ہے تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایک اقنوم کے باپ اور دونہر ے کے بیٹا کہلانے کی کیا وجہ تھی ؟ باپ یا بیٹا کہلانا تو درجہ یا زمانی تار کا متقاضی ہے۔اگر اس قسم کا کوئی تقدم یا تاخر باپ اور بیٹے میں نہیں تو کلام الہی نے یہ بے معنی نام کیوں دئے۔پھر کیا وجہ ہے کہ ایک کو بیٹے کا اور دوسرے کو باپ کا نام دیا گیا۔پھر ایک اور سوال یہ ہے کہ کیا ان ناموں میں : جنگ مقدس مثلا روحانی خزائن جلد ۶ :