کسر صلیب

by Other Authors

Page 72 of 443

کسر صلیب — Page 72

تجزیہ کر نے کے بعد اس عقیدہ کی بنیادی کڑی کو دریافت فرمایا اور سب سے زیادہ زور پاس بنیادی کڑی کے باطل کرنے پر دیا ہے۔ظاہر ہے کہ یہ طریق بہت ہی مفید اور کارگر ہے۔اس کی مثال ایسے ہی ہے کہ جیسی کسی بڑی عمارت کو گرانا مقصود ہو تو دو طریقے ہوسکتے ہیں۔ایک تو یہ کہ اس عمارت کو اوپر کی طرف سے گرانا شروع کیا جائے اور ایک، ایک اینٹ کو علیحدہ کر دیا جائے۔دوسرا طریق یہ ہے کہ اس عمارت کی بنیادی اینٹوں کو نکال دیا جائے ، وہ ساری کی ساری عمارت زمین پر آگرہ سے گی۔+4 تر دید عیسائیت کے سلسلہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان ہر دو طریق کو استعمال فرمایا ہے لیکن خاص توجہ دوسرے طریقہ پر مرکوز رکھی ہے۔چنانچہ آپ کے علم کلام کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے عیسائیت کے ہر ایک باطل عقیدہ کے روسی دلائل دیئے ہیں لیکن خاص طور پر آپ کی توجہ ان بنیادوں کی طرف رہی جن پر ان عقائد کی عمارت استواس کی جاتی ہے۔موجودہ عیسائیت کے دو ہی بڑے عقید سے ہیں۔تثلیث اور کفارہ ، حضرت مسیح پاک علیہ السلام نے تثلیث کے حق میں اور کفارہ کے حق میں پیش کی جانے والی ہر دلیل کا رد فرمایا لیکن خاص طور پر آپ کی توجہ الوہیت مسیح کے مسئلہ کی طرف رہی جو تثلیث کی ایک بنیادی کڑی بلکہ حقیقی بنیاد ہے اور اسی طرح آپ نے اپنا زور اس بات پر صرف فرمایا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام سرگز ہرگز صلیب پر قوت نہیں ہوئے۔کیونکہ حضرت مسیح علیہ السلام کی صلیبی موت ہی کفارہ کی اصلی اور حقیقی بنیاد ہے جیسا کہ اس مقالہ کے متعلقہ باب سے ظاہر ہو گا۔حضرت مسیح پاک علیہ السلام نے سب سے زیادہ زور الوسیت مسیح اور مسیح علیہ السلام کی صلیبی موت کی تردید پر دیا ہے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے علم کلام کی خصوصیت یہ ہے کہ جہاں آپ نے عیسائی عقائد کا تفصیلی رو بیان فرمایا ہے وہالی خاص طور پر عیسائی عقائد کی جڑ پر تبر رکھی ہے اس طرح اس بنیاد کو منہدم کر دیا ہے جس پر عیسائیت کا فقر تعمیر کیا گیا تھا۔یہاں یہ ذکر کر دینا بھی ہے موقع نہ ہوگا کہ عیسائیت کے ناکارہ عقائد کی بوسیدہ عمارت کو گھمانے کا یہی طریق بہتر ہے جس باطل کی تردید بھی ہو جاتی ہے اور وقت بھی ضائع نہیں ہوتا۔تر گیار بوین خصوصیت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے علم کلام کی ایک خوبی یہ ہے کہ آپ کے علم کلام میں استدلال کا