کسر صلیب

by Other Authors

Page 73 of 443

کسر صلیب — Page 73

۷۳ طریق اور استدلال اس قدر مضبوط اور عمدہ ہوتا ہے کہ پڑھتے وقت یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ایک میخ زمین میں دھنستی چلی جاتی ہے۔حضرت مسیح پاک علیہ السلام کے سارے علم کلام پر ایک نظر کرنے سے یہ حقیقت واضح طور پر سامنے آجاتی ہے کہ آپ نے عقلی اور نقلی دلائل پیش کرتے ہوئے اور اسی طرح غیروں کے اعتراضات کے جوابات دیتے ہوئے استدلال کا ایسا عمدہ طریق اختیار فرمایا ہے کہ ہرقسم کے شکوک و شبہات رفع ہو کر ایک معرفت اور ایمان پیدا ہوتا ہے۔آپ کے علم کلام کی یہ خوبی جہاں اس کی عظمت پر دلالت کرتی ہے وہاں اس بات کی بھی غمازی کرتی ہے کہ اس علم کلام کے بیان کرنے والے کو اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص الخاص فضل سے خیالات کی پاکیزگی عقائد پر کامل عبور، ایمان وایقان کی بے پناہ دولت عطا کرنے کے علاوہ اس کے بیان میں بے پناہ قوت اور تاثیر ودیعت کر دی ہے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا علم کلام جو آپ کے درد مند دل کی گہرائیوں سے ابھرتا تھا پڑھنے اور سننے والوں کے دلوں میں گھر کر جاتا ہے اور معاندین کو بھی اس بات پر مجبور کر دیتا ہے کہ وہ اس بیان پر غور کریں۔پس یہ جذب و کشش اور یہ مقبولیت حضرت مسیح پاک علیہ السلام کے علم کلام کا ایک امتیازی وصف ہے۔بارہویں خصوصیت مشام سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خداداد علم کلام کی بارہویں اور میرے اس بیان و کے لحاظ سے آخری امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ آپ کا پیش کردہ علم کلام اپنے اند را مجازی قوت رکھتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے علم کلام کا بنظر غائر جائزہ لینے والا ہر شخص یہ اندازہ لگا سکتا ہے کہ اس خداداد علم کلام کی طلائی شان زیر دست قوت و تاثیر محکم بنیاد اور وسعت دہمہ گیری نے اس کو ایک اعجازی مرتبہ عطا کر دیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ مسیح پاک علیہ السلام نے اپنے کلام میں مخالفین کو چیلنج کیا۔بار بالہ تحقیری کے ساتھ دعوت مبارزت دی۔اور بارہا دشمنوں کو مقابلہ کی دعوت دی لیکن اول تو کوئی دشمن نشان نمائی کے میدان میں حضور کے مقابلہ پر نہ اترا اور جنسی ذرا بھی۔اس میدان میں قدم رکھا وہ آسمانی بجلی کی زدمیں اگر خا کستر ہو گیا۔خاص طور پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے مقصد بعثت کی مناسبت سے عیسائی پادریوں کو بارہا نہ دعوت مقابلہ دے کر ان پید اتمام محنت کر دی۔ایک موقع پر ان الفاظ میں دعوت مقابلہ دی۔فرمایا :