کسر صلیب — Page 69
۶۹ معترضین کے اعتراضات کے جوابات دیئے ہیں اور اس پہلو سے ان پر اتمام حجت کی ہے بلکہ بسا اوقات معترضین کے اعتراضات کو الٹا کر ان پر ہی ایسے انداز سے وارد کیا ہے کہ ان کے لئے بیچ کر جانا مشکل ہو گیا۔خاص طور پر عیسائیت کے خلاف علم کلام میں اسکی متعدد مثالیں ملتی ہیں۔اس سلسلہ میں سب سے اہم اور مشہور واقعہ ۱۸۹۳ء میں مباحثہ امرت سر کے دوران پیش آیا۔یہ مباحثہ پندرہ روزہ تک جاری رہا۔جب عیسائیوں نے دیکھا کہ دلائل کے اعتبار سے ہم میدان چھوڑ رہے ہیں تو انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو (نعوذ باللہ ذلیل اور رسوا کرنے کے لئے ایک تدبیر کی اور چند بیماروں اور معذوروں کو اکٹھے کر کے لے آئے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کہا کہ آپ مسیح ہونے کا دعوی کرتے ہیں تو ان بیماری کو اچھا کر کے دکھائیں۔عیسائیوں نے یہ تدبیر اپنے خیال میں تو حضرت مسیح موعود علیہ السّلام کی ذلت اور رسوائی کی کی خاطر کی تھی لیکن خدا تعالیٰ نے اپنے وعدہ انی معین من اراد اهانتك كے مطابق یہ تدبیر خود عیسائیوں کے خلاف پھیر دی۔مہوایوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جواباً فرمایا ہ ہم تو یہ جانتے ہی نہیں کر مسیح اس طرح کے مریضوں کو اچھا کیا کرتے تھے اس لئے یہ مطالبہ ہم سے کرنا ہی غلط ہے ہاں البتہ تمہاری کتاب مقدس میں لکھا ہے کہ تم میں اگر رائی کے دانہ کے برابر بھی ایمان ہو تو اگر تم پہاڑ کو حرکت کاحکم دو تو وہ حرکت کرنے لگے گا۔حضور نے فرمایا ہم تم سے کسی پہاڑ کے ہلانے کا مطالبہ نہیں کرتے۔تم نے خود ہی جن بیماروں کو اکٹھا کیا ہے اب تم ان کو ہی اچھا کر کے دکھا دو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی خداداد فراست سے عیسائیوں کی تدبیر ان کے خلاف لوٹا دی مسیح پاک علیہ السلام کا یہ جواب نمیسائیوں نے سنا تو فورا ان مریضوں کو میدان مباحثہ سے چلتا کیا۔ڈپٹی عبداللہ آتھم نے مریضوں کو پیش کرتے ہوئے حضرت مسیح پاک علیہ السلام سے کہا تھا : - دو چونکہ آپ ایک خاص قدرت الہی دکھانے پر آمادہ ہو کے ہم کو برائے مقابلہ + بلاتے ہیں تو ہمیں دیکھنے سے گریز بھی نہیں یعنی معجزہ یا نشانی۔پس ہم یہ تین شخص پیش کرتے ہیں جن میں ایک اندھا - ایک ٹانگ کٹا اور ایک گونگا ہے ان میں سے جس کسی کو صحیح سالم کر سکو کر دو اور جو اس معجزہ سے ہم پر فرض واجب ہوگا ہم ادا کریں گے یا لے :- جنگ مقدس صث (جلد) +