کسر صلیب

by Other Authors

Page 70 of 443

کسر صلیب — Page 70

4-19 عبد اللہ آتھم کے مقابلہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا :- یاد رہے کہ ہر ایک شخص اپنی کتاب کے موافق مواخذہ کیا جاتا ہے۔ہمارے قرآن میں کہیں نہیں لکھا کہ تمہیں اقتدار دیا جائے گا بلکہ صاف لکھا ہے کہ قل انما الآيات عند الله یعنی ان کو کہدو کہ نشان اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں جس نشان کو چاہتا ہے اسی نشان کو ظاہر کرتا ہے بندہ کا اس پر زور نہیں ہے کہ جبر کے ساتھ اس سے ایک نشان لیو سے " کہ پھر اسی ضمن میں فرمایا : - " " آپ دعوی کرتے ہیں کہ نجات صرف مسیحی مذہب میں ہے۔۔۔۔۔آپ کے مذہب میں حضرت عیسی نے جو نشانیاں نجات یافتہ بندوں یعنی حقیقی ایمانداروں کی لکھی ہیں وہ آپ میں کہاں موجود ہیں مثلاً جیسے کہ کہ نتھیوں 114 میں لکھا ہے۔اور و سے جو ایمان لائیں گے ان کے ساتھ یہ علامتیں ہوں گی کہ وہ میرے نام سے دیووں کو نکالیں گے اور نئی زبانیں بولیں گے سانیوں کو اٹھا لیں گے اور اگر کوئی ہلاک کرنے والی چیز پیئیں گے انہیں کچھ نقصان نہ ہو گا۔اسے بیماری پر ہاتھ رکھیں گے تو چنگے ہو جائیں گے تو اب میں با ادب التماس کرتا ہوں اور اگر ان الفاظ میں کچھ درشتی یا سرایت ہو تو اس کی معافی چاہتا ہوں کہ یہ تین بیمار جو آپ نے پیش کئے ہیں یہ علامت تو بالخصوصیت مسیحیوں کیلئے حضرت عیسی قرار دے چکے ہیں اور فرماتے ہیں کہ اگر تم سچے ایماندار ہوتو تمہاری رہی علامت ہے کہ بیمار پر ہا تھو تھو گے تو وہ چنگا ہو جائے گا اب گستاخی معاف اگر آپ سچے ایماندار ہونے کا دعوی کرتے ہیں تو اس وقت تین بیمار آپ ہی کے پیش کردہ موجود ہیں۔آپ ان پر ہاتھ یہ کھادیں اگر وہ جنگے ہو گئے تو ہم قبول کر لیں گے کہ بیشک آپ بچے ایماندار اور نجات یافتہ ہیں ورنہ کوئی قبول کرنے کی راہ نہیں۔کیونکہ حضرت مسیح تو یہ بھی فرماتے ہیں کہ اگر تم میں رائی کے دانہ برابر بھی ایمان ہوتا تو اگر تم پہاڑ کو کہتے کہ یہاں سے چلا جا تو وہ چلا جاتا مگر خیر میں اس وقت پہاڑ کی نقل مکانی تو آپ سے نہیں چاہتا کیونکہ وہ ہماری اس جگہ سے دُور ہیں لیکن یہ تو : سورة الانعام : ١٠٩ - 1-91 : روحانی خزائن جلد ۶ پے -