کسر صلیب — Page 60
۶۰ کل کا نظارہ دنیا اپنی آنکھوں سے دیکھے گی " اے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس جگہ ان دو اصولی باتوں کا ذکر کر دیا جائے جو آپ نے اپنے مد مقابل عیسائیوں کو مخاطب کر کے پیش فرمائیں۔چنانچہ ایک موقع پر آپ نے حکومت وقت کے سامنے تجویز رکھی کہ وہ ایسا قانون پاس کرے جیسے مختلف مذاہب کے درمیان امن اور سلامتی کی فضا پیدا ہو سکے۔اس سلسلہ میں آپ فرماتے ہیں :- فتنہ انگیز تحریروں کے روکنے کے لئے بہتر طریق یہ ہے کہ گورنمنٹ عالیہ یا تو یہ تدبیر کمرے کہ ہر ایک فریق مخالف کو ہدایت فرما دے کہ وہ اپنے حملہ کے وقت تہذیب اور نرمی سے باہر نہ جاو سے اور صرف ان کتابوں کی بناء پر اعتراض کرے جو فریق مقابل کی مسلم اور مقبول ہوں اور اعتراض بھی وہ کر سے جو اپنی مسلم کتابوں پر وارد نہ ہو سکے۔اور اگر گورنمنٹ عالیہ یہ نہیں کر سکتی تو یہ تدبیر عمل میں لا ر سے کہ یہ قانون صادر فرمائے کہ ہر ایک فریق صرف اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کیا کر ہے۔اور دوسرے فریق پر ہر گنہ حملہ نہ کر ہے۔میں دل سے چاہتا ہوں کہ ایسا ہو اور میں جانتا ہوں کہ قوموں میں صلح کاری پھیلانے کے لئے اسی بہتر اور کوئی قدیر نہیں کہ کچھ عرصہ کے لئے مخالفانہ حملے روک دیئے جائیں۔ہر ایک شخص صرف اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کریسے اور دوسرے کا ذکرہ زبان پر نہلاد سے سے پھر اس ضمن میں آپ نے پادری صاحبان کو بھی دو نصیحتیں فرمائی ہیں۔آپ فرماتے ہیں :- اول یہ کہ وہ اسلام کے مقابل پیر ان بے ہودہ روایات اور بے اصل حکایات سے مجتنب یہ ہیں جو ہماری مسلم اور مقبول کتابوں میں موجود نہیں اور ہمار ہے عقیدہ میں داخل نہیں اور نیز قرآن کے معنے اپنے طرف سے نہ گھڑ لیا کریں بلکہ وہی معنے کریں جو تو اتر آیات قرآنی اور احادیث صحیحہ سے ثابت ہوں۔۔۔۔۔دوسری منے نصیحت۔۔۔۔ہ یہ ہے کہ وہ ایسے اعتراض سے پر ہیز کریں جو خود ان کی کتب مقدسہ میں بھی پایا جاتا ہے" سے ظاہر ہے کہ اگر عیسائی حضرات ان موخر الذکر دو اصولوں کی طرف توجہ دیتے اور ان پر عمل کرتے تو ان کو اسلام کے خلاف کچھ کہنے کا موقعہ نہ مل سکتا بلکہ حق تو یہ ہے کہ ان عادلانہ اصولوں کی پابندی دعوت الامير ۱۲-۱۲۳ : : كتاب البرية ۲۲ (جلد ۱۳) بانگ : آرید دهرم خشت (جلد ۱۰) سه - (۸۱