کسر صلیب — Page 44
۴۴ ہے کہ جہاں ایک طرف عیسائی مذاہب کے عقائد کا بطلان ثابت ہو چکا ہے وہاں اس عظیم علم کلام کا ایسا رعب عیسائی پادریوں کے دلوں پر طاری ہو چکا ہے کہ کوئی عیسائی حتی کہ کوئی پادری بھی اب حضرت کا سر صلیب کے ادنی غلاموں سے بات کرنے پر آمادہ نہیں ہوتا کوئی عیسائی اس بات کو تسلیم کر سے یا نہ کرے لیکن حقیقت یہی ہے کہ حضرت مسیح موجود علیہ السلام کے عیسائیت کے خلاف علم کلام نے عیسائی مذہب کی صنف پیٹ دی ہے۔اسکی پہلی سی شان و شوکت جاتی رہی ہے۔اسی کی عمارت کی بنیا دیں کھوکھلی ہو چکی ہیں اور وہ دن دور نہیں جب اس مردہ کو مردہ مذاہب کے قبرستان میں سپرد خاک کر دیا جائیگا۔قضائے آسمان است این بہر حالت شور پیدا حضرت امیر المومنین خلیفہ مسیح الثانی رضی اللہ عنہ اپنی کتاب میں حضرت مسیح موجود یہ السلام کے علم کلام کے نتائج اور عیسائیت کے انجام کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں :- و آپ نے اسلام کی حفاظت اور اسکی تائید میں اس قدر کوشش کی کہ آخر دشمنان اسلام کو تسلیم کر نا پڑا کہ اسلام مردہ نہیں بلکہ زندہ مذہب ہے، اور ان کو فکر پڑ گئی کہ ہمار سے مذاہب اسلام کے مقابلہ میں کیونکر ٹھہریں گے اور اس وقت اس مذہب (یعنی عیسائیت ناقل کو جو سب سے زیادہ اپنی کامیابی پر اقرارہا تھا اور اسلام کو اپنا شکارہ سمجھ رہا تھا یہ حالت ہے کہ اس کی مبلغ حضرت اقدس کے خدام سے اس طرح بھاگتے ہیں جس طرح گرتے شیروں سے بھاگتے ہیں اور کسی میں یہ طاقت نہیں کہ وہ احمدی کے مقابلے پر کھڑا ہو جائے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ مسیحیت گو ابھی اسی طرح دنیا کو گھیر سے ہوئے دنیا ہے جس طرح پہلے تھی اور دیگر ادیان بھی اسی طرح قائم ہیں جس طرح پہلے تھے مگر اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کی موت کی گھنٹی بج چکی ہے اور ان کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ چکی ہے۔۔۔حضرت اقدس نے ان (مذاہب ناقل) پر ایسا دار گیا کہ اسکی زد سے وہ جانبر نہیں ہو سکتے اور جلد یا بدیہ ایک مردہ ڈھیر کی طرح اسلام کے قدموں پر گریں گے کہ اے سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آمد سے دنیا میں ایک نئے علم کلام کا آغا نہ ہوا - : دعوة الامير ط