کسر صلیب — Page 43
۴۳ ہیں۔چنانچہ عیسائیوں نے اپنی تصانیف میں اس بات کا واضح اقرار کیا ہے۔پادری ایل بیون جو نہ اپنی کتاب " مسیحی دین کا بیان میں اس کتاب کے بارہ میں لکھتے ہیں :- " اس میں قرآن اور احمدی فرقہ کی تعلیم کا ذکر بار بار آیا ہے اور اس کی خاص وجہ۔۔۔ہے۔۔۔۔۔۔احمد می دعاوی اور دلائل اس کتاب میں اس لئے لکھے گئے ہیں کہ راسخ الاعتقاد گروہ اگر چہ احمدی فرقہ کی تعلیم کا تو قائل نہیں ہے چه تو بھی ان کا استعمال کرتا ہے " اے والفضل ما شهدت به الاعداء حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے علم کلام کی خومیوں اور خصائص کو بیان کو نا کوئی آسان کام نہیں ہے کچھ خوبیاں ایسی ہیں جن کو جاننے کے باوجود د اختصار کے پیش نظر ، قلم بیان کرنے سے قاصر ہے اور اس خداداد علم کلام کی کچھ خو بیاں ایسی ہیں جن کے صحیح ادراک سے میری فکر کوتاہ اور عاجز ہے۔پس کس طرح ممکن ہو سکتا ہے کہ مامویہ زمانہ کا سر صلیب سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے علم کلام کی سب خوبیوں کو اس جگہ بیان کر سکوں پھر اس راہ میں حضور کے علم کلام کی وسعت بھی حائل ہے۔حضور عیسائیت کے رد میں اپنے علم کلام کے بارہ میں کی فرماتے ہیں: " عیسائی مذہب کے استیصال کے لئے ہمارہ سے پاس تو ایک دریا ہے اور اب وقت آگیا ہے کہ برطلسم ٹوٹ جاد سے اور وہ بہت جو صلیب کا بنایا گیا ہے گھر پر ہے۔پس اس قدر وسیع اور عالمگیر علم کلام کا تجربہ اور اس کی محاسن کا بیان ان مختصر را در محدود صفحات میں کیسے ہو سکتا ہے۔جہاں تک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے علم کلام کی کیفیت اور قوت کا تعلق ہے یوں سمجھنا چاہیئے کہ آپ کا علم کلام عیسائی عقائد کے حق میں ایک آسمانی پھلی کی مانند ہے جب تھی سب کے سب عقائد کے شیش محل کو ایندہ یہ یزہ کر دیا ہے اور اس علیم کلام کی ضرب حیدری نے عیسائیت کے طلسم کو باطل کر کے رکھ دیا ہے۔آپ خود فرماتے ہیں:- ہما ر سے اصول عیسائیوں پر ایسے پتھر ہیں کہ وہ انکا ہر گز جواب نہیں دے سکتے سے یہ بیان کوئی یکطرفہ دعوی یا خوش فہمی کا اظہار نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ میدان مقابلہ میں اترنا تو بہت بڑی بات ہے آج اس علم کلام کی بدولت یہ کیفیت ہو گئی ے مسیحی دین کا بیان ص : ه:- ملفوظات جلد سوم ما به ه - ملفوظات جلد نہم من :