کسر صلیب — Page 45
دم جو اپنی نظیر آپ ہے۔اس خداداد علم کلام کے باقی خود کا سر صلیب حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہیں۔آپ نے اپنی حیات مستعار ہیں۔۸ سے زائد بے مثال کتب تصنیف فرمائیں جن میں سے تقریبا ہر کتاب میں عیسائیت کے دردمیں بالواسطہ یا بلا واسطہ مواد موجود ہے اور ایسا کیوں نہ ہوتا جبکہ آقائے نامدار، تاجدار بطحاء، خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو کا میر صلیب کا لقب عطا فرمایا۔حق یہ ہے کہ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس روحانی فرزہ تداور عاشق صادق اور اسلام کے فتح نصیب جرنیل نے اس لقب کا پورا پورا حق ادا کر دیا۔اپنی زندگی کا ایک ایک لمحہ اس کام کے لئے وقف کر دیا اور ساری قوتیں اس راہ میں صرف کہ ڈالیں۔ہاں یہ اسلامی فوجوں کا دہی سپہ سالار ہے جو ساری عمر اسلام کی خدمت پر کمربستہ رہا اور عیسائیت کے دجل کے خلاف نبرد آزما۔یہی وہ روحانی پہلوان ہے دینی روحانیت کے میدان میں ایک نیسائیت کو نہیں بلکہ ساری دنیا کے باطل مذاہب کو ایسا سر نگوں کیا ہے کہ قیامت تک کسی مذہب میں یہ ہمت نہیں رہی کہ اسلام کے مقابل پہ فخر سے اپنا سر بھی اُونچا کر سکے۔ہاں یہ وہی بطل جلیل ہے جس کی ساری توجہ عیسائیت کے خلاف مرکوزہ رہی اور وہ ہر دم اس فکر میں رہا کہ کسی طرح عیسائیت کا اندھیرا دور ہو اور اسلام کا آفتاب عالمتاب اپنی ضوفشانی سے تاریک دلوں کو منور کر سے۔یہی مسیحائے زمان اور مہدی دوراں ہے رنجی بار بار عیسائیوں کو حق کی طرف بلایا اور پیڑ سے درد بھر سے دل کے ساتھ کہا۔آؤ عیسائیو! ادھر آؤ نور حق دیکھو راه حق یاد صرف اسی پریس نہیں بلکہ سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے عیسائیت کو سرنگوں کرنے کے لئے ہر ممکن طریق اختیار فرمایا۔ایک طرف عیسائیت کے غلط عقائد کا لبطلان ثابت کیا تو دوسری طرف عیسائیت کے ماننے والوں کو نشان نمائی کے میدان میں عاجبتہ اور لاچار کر دیا۔آپ نے ہر پادری کو اور ہر عیسائی کو مقابلہ کی دیعوت دی اور اس طرح پیر ان پر اتمام حبت کر دی کہ اب یہ مذہب اس قابل ہی نہیں رہے کہ اس کے ماننے والے اس پر فخر کر سکیں اور دوسروں کو اس کی طرف دعوت دے سکیں۔آپ فرماتے ہیں۔آزمائش کے لئے کوئی نہ آیا ہر چند ہر مخالف کو مقابل پر بلایا ہم نے