کسر صلیب

by Other Authors

Page 419 of 443

کسر صلیب — Page 419

۴۱۹ صلیب پر مر گئے ہوتے تو کشمیر میں ان کی قبر کا وجود ایک بے معنی امر ہو جاتا ہے۔پس کشمیر میں ان کی قبر کا ان ہونا اصلیبی موت کی تردید کا ایک واضح ثبوت ہے۔جعفور اس استدلال کو اور اس کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :- پھر ان سب باتوں کے علاوہ ایک اور امر پیدا ہو گیا ہے جنے قطعی طور یہ ثابت کہ دیا ہے کہ مسیح کا صلیب پر مرنا بالکل غلط اور جھوٹ ہے۔وہ ہر گز ہرگز صلیب پر نہیں مرے اور وہ ہے سیج کی قبر مسیح کی قبر سری نگر خانیارہ کے محلہ میں ثابت ہو گئی ہے اور یہ وہ بات ہے جو دنیا کو ایک زلزلہ میں ڈال دے گی۔کیونکہ اگر مسیح صلیب پر مرے تھے تو یہ قبر کہاں آگئی ہے تو یہ لے پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ان واضح بیانات کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی قبر کا کشمیر میں موجود ہونا ایک قطعی امر ہے اور یہ اس بات کا ایک منہ بولتا اور واقعاتی ثبوت ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام ہرگز صلیب پر فوت نہیں ہوئے تھے۔بلکہ انہوں نے صلیب سے نجات پا کہ ہجرت کی کشمیر میں فوت ہوئے اور و نہیں مدفون ہوئے۔استیسویں بیل دليل حضرت مسیح علیہ السلام کی صلیبی موت کی تردید میں ایک اور دلیل حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ بیان فرمائی ہے کہ عیسائیوں میں بھی ایک طبقہ کا خیال ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام صلیب پر فوت نہیں ہوئے ان محقق عیسائیوں کی یہ شہادت اس بات کو واضح کرتی ہے کہ اب حقائق پر غور کرنے کے نتیجہ میں انہوں نے بھی اسی بات اور نظریہ کو اپنایا ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پیش فرمایا ہے۔اس سے یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ جو کوئی بھی حقائق پر نظر کمر سے گا وہ اس نتیجہ پر پہنچے گا کہ حضرت مسیح علیہ السلام صلیب پر فوت نہیں ہوئے کیونکہ اصل حقیقت یہی ہے۔اس دلیل کے ضمن میں میں صرف ان دو حوالوں کو درج کرنا چاہتا ہوں جو سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتب میں درج فرمائے ہیں : - پہلا حوالہ کتاب Supernatural Religion کا ہے۔اصل حوالہ جو حضور نے اپنی کتاب تحفہ گولڑویہ میں درج فرمایا ہے بہت طویل ہے۔میں اس جگہ اس حوالہ کا ابتدائی حصہ درج کرتا ہوئی جس میں گویا سانہ سے حوالہ کا خلاصہ بیان کر دیا ہے۔حوالہ یہ ہے :- ه : ملفوظات جلد دوم ما :