کسر صلیب

by Other Authors

Page 420 of 443

کسر صلیب — Page 420

The first explanation adopted by some able critics is that Jesus did not really die on the cross but being taken alive and his body being delivered to friends, he subsequently revived۔۔۔۔۔۔۔۔" یعنی پہلی تفسیر جو بعض لائق محققین نے کی ہے وہ یہ ہے کہ یسوع در اصل صلیب پر نہیں سرا بلکہ صلیب سے زندہ اتار کر اس کا جسم اس کے دوستوں کے حوالے کیا گیا اور وہ آخر بچ نکلا دوسرا حوالہ کتاب MODERN THOUGHT AND CHRISTIAN BELIEF کا ہے۔اس حوالہ کو درج کرتے ہوئے حضور فرماتے ہیں : کتاب ماڈرن تھاٹ اینڈ کرسچین سیلیف کے صفحہ ۴۵۵ ، ۴۵۰ ، ۳۴۷ میں یہ عبارت ہے :- The former of these byhotheses that of apparent deaths was employed by the old rationalists and more recently by schleiermacher in his life christ sehleiermacher's supposition۔that Jesus afterwards lived for a time with the disciples and than retired into entire solitude for his second death۔ترجمه : شیر میخو او را نیز قدیم متفقین کا یہ مذہب تھا کہ یسوع صلیب پر نہیں مرا بلکہ ایک ظاہرا موت کی کسی حالت ہو گئی تھی اور قبر سے نکلنے کے بعد کچھ مدت تک اپنے حواریوں کے ساتھ پھر تا ہے اور پھر دوسری یعنی اصلی موت کے واسطے کسی علیحدگی کے مقام کی طرف روانہ ہو گیا ہے عیسائی محققین کے یہ دو حوالے (جو بطور نمونہ درج کئے گئے ہیں ) ثابت کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موجود علیہ السلام کی تحقیق کہ حضرت مسیح علیہ السلام مطلب پر فوت نہیں ہوئے ، بالکل درست اور کچی تحقیق ہے پس عیسائی تحقین کی یہ تحقیق اس بات کا ایک اور ثبوت ہے کہ حضرت مسیح عید السلام ہرگز صلیب پر فوت نہیں ہوئے۔تیسویں دلیل تری کے لحاظ سے تیسویں اور میرے اس بیان کے لحاظ سے آخری دلیل مرسم عیدی کی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس دلیل کو پوری وضاحت کے ساتھ اپنی متعدد کتب میں بار بارہ بیان فرمایا ہے۔حضور نے ا تحفہ گولڑویہ ص ۲۲-۲۲۸ - جلد ۱۷ ت