کسر صلیب — Page 37
۳۷ تا ہے اور لکڑی وغیرہ کی صلیبوں کو جو پیسے پیسے پر فروخت ہوتی ہیں توڑتا پھرے گا بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ میلسی مذہب کی بنیاد کو توڑے گا ہے 4+ (<) " صلیب کیسے توڑنے سے یہ سمجھنا کہ صلیب کی لکڑی یا سونے چاندی کی صلیبیں توڑی جائیں گی۔یہ سخت غلطی ہے اس قسم کی صلیبیں تو ہمیشہ اسلامی جنگوں میں ٹوٹتی رہی ہیں بلکہ اسے مطلب یہ ہے کہ مسیح موعود صلیبی عقیدہ کو توڑ دے گا اور بعد اس کے دنیا میں صلیبی عقیدہ کا نشو و نما نہیں ہوگا۔ایسا ٹوٹے گا کہ پھر قیامت تک اس کا پیوند نہیں ہوگا " ۵۲ کسیر صلیب کے ضمن میں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ اسی ہرگز یہ مراد نہیں ہے کہ مسیح موعود کی آمد کے بعد دنیا میں کوئی عیسائی باقی نہ رہے گا۔کسیر ملی ہے صرف یہ مراد ہے کہ عیسائیت مغلوب ہو جائے گی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کسیر صلیب سر صلیب کے حقیقی مفہوم کے ذکر میں فرماتے ہیں : - " یہ خیال بھی غلط ہے کہ کوئی عیسائی دنیا میں نہ رہے گا۔اسلام ہی اسلام ہوگا جبکہ خدا تعالیٰ خود قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ ان کا وجود قیامت تک رہے گا۔مطلب یہ ہے کہ نصاریٰ کا مذہب ہلاک ہو گا اور عیسائیت نے جو عظمت دلوں پر حاصل کی ہے وہ نہ رہے گی ی" سے br اس جگہ یہ ذکر کر دینا بھی مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اگر چہ احادیث میں مسیح موعود کو کاسمیر سلیب قرار دیا گیا ہے اور اس کا کام کسر سلیب بیان کیا گیا ہے۔لیکن یہ یاد رکھنا چاہیئے کہ کسیر صلیب کا عظیم الشان کام کسی ایک فرد کا کام نہیں۔نہ ایک فرد کی طاقت میں ہے کہ وہ اتنا عظیم الشان کام سرانجام دے سکے۔یہ کام تو خدا تعالیٰ کا ہے اور دنیا میں جو کچھ ہوتا ہے یا ہو گا اسی کے حکم سے ہوگا۔پس اگر کسیر صلیب کے حقیقی مفہوم کو مد نظر رکھا جائے تو اصل بات یہ نظر آتی ہے کہ اس زمانہ میں صلیب کو توڑہ نا ایک خدائی فیصلہ ہے اور خدا خود کا سر صلیب ہے۔حضرت مسیح پاک علیہ السلام نے بھی فرمایا ہے :- ہے :- ملفوظات جلد دہم 04-00 ه: ملفوظات جلد ششم ۲۱۵ حقیقة الوحی ص ۳۲۔روحانی خزائن جلد ۲۲ :