کسر صلیب — Page 402
۴۰۳ پر شمول نہیں کیا جاسکتا۔اس واقعہ کی جو اصل میں ایک کشف تھا، تعبیر ظاہر کرتی ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام صلیہ سے نجات پائیں گے۔اگر اس واقعہ کو جو انا جیل میں بیان ہوا ہے ظاہر پر محمول کیا جائے تو اس صورت میں اس پر بہت لوجو سے شدید اعتراضات وارد ہوتے ہیں۔اصل حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک کشفی امر تھا جو اس وقت بعض لوگوں کو دکھایا گیا جب حضرت مسیح علیہ السلام کو صلیب پر لٹکایا گیا تھا۔اگر والوں کی تعبیر کے فن کی رو سے اس خواب کی تعبیر معلوم کی جائے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ اسکی کسی قیدی یا مصیبت زدہ کی آزادی اور مخلصی پانا مراد ہوتا ہے۔پس حضور نے اس سے یہ استدلال فرمایا ہے کہ خدا کی طرف سے یہ کشف اسی لئے دکھایا گیا تھاکہ تا حضرت مسیح علیہ السلام کی صلیبی موت سے نجات پر ایک دلیل ہو حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس دلیل کا آغاز یوں فرماتے ہیں :- منجملہ ان شہادتوں کے جو انجیل سے ہم کو ٹی میں نجیل متی کی وہ عبارت ہے جو ہم ذیل میں لکھتے ہیں۔اور قبرس کھل گیئیں اور بہت لاشیں پاک لوگوں کی جو آرام میں تھیں اُٹھیں اور اس کے اُٹھنے کے بعد دینی مسیح کے اُٹھنے کے بعد قبروں میں سے نکل کر اور مقدس شہر - یہ میں جا کر بہنوں کو نظر آئیں۔دیکھو انجیل متی باب ۲۷ آیت ۵۲ - اس میں کچھ شک نہیں کہ یہ جا نظر قصہ جو انجیل میں بیان کیا گیا ہے کہ مسیح کے اُٹھنے کے بعد پاک لوگ قبروں میں سے باہر نکل آئے اور زندہ ہو کر بہتوں کو نظر آئے یہ کسی تاریخی واقعہ کا بیان نہیں ہے کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو پھر گویا اسی دنیا میں قیامت نمودار ہو جاتی اور وہ امر جو صدق اور ایمان دیکھنے کے لئے دنیا پر مخفی رکھا گیا تھا وہ سب کھل جاتا اور ایمان نہ رہتا ہے کہ پس ظاہر ہے کہ اس واقعہ کو ظاہر پر محمول نہیں کیا جاسکتا۔اصل حقیقت کیا ہے اور کس طرح یہ واقعہ صلیبی موت کی تردید کا ایک ثبوت ہے ؟ اس سلسلہ میں حضور فرماتے ہیں :- واضح ہو کہ یہ ایک کشفی امر تھا جو صلیب کے واقعہ کے بعد بعض پاک دل لوگوں نے خواب کی طرح دیکھا تھا کہ گویا مقدس مرد سے زندہ ہو کہ شہر میں آ گئے ہیں اور لوگوں سے ملاقاتیں کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔اس خواب کی بھی ایک تعبیر تھی اور وہ یہ تعبیر تھی کہ مسیح صلیب پر نہیں سرا اور خدا نے اس کو صلیب کی موت سے نجات دے دی۔۔۔۔۔ہم قدیم نیما نہ کی ایک امام فن تعبیر صاحب کتاب تعطیر الانام کی تعبیر کو اس کی اصل عبارت کے ساتھ ذیل میں لکھتے ہیں۔نه در مسیح ہندوستان میں ملا۔جلد ۱۵ : 1 : + "I