کسر صلیب

by Other Authors

Page 401 of 443

کسر صلیب — Page 401

3 ۴۰۱ یہ وعدہ کس طرح پورا ہوا ؟ اس کا کوئی واضح اور تاریخی ثبوت عیسائی پیش نہیں کر سکے کیونکہ عمل بات اس طرح پر ظہور میں نہیں آئی۔لیکن اعتراض سے بچنے کی خاطر عیسائی یہ تاویل کرتے ہیں کہ یہ ظہور تشفی زنگ میں ہو چکا ہے۔اس جواب پر کڑی تنقید کرنے اور اس کی فلعلی واضح کرنے کے بعد حضور نے اصل حقیقت کو بایں الفاظ بیان فرمایا ہے :- اصل حقیقت یہ ہے کہ چونکہ مسیح جاتا تھا کہ میں صلیب سے بچ کر دوسرے ملک میں چلا جاؤں گا اور خدانہ مجھے ہلاک کرے گا اور نہ دنیا سے اُٹھائے گا۔جب تک کہ میں یہودیوں کی بربادی اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لوں اور جب تک کہ وہ بادشاہت جو برگزیدوں کے لئے آسمان میں مقرر ہوتی ہے اپنے نتائج نہ دکھلا دے میں ہر گنہ وفات نہیں پاؤں گا۔اس لئے سیج نے یہ پیش گوئی کی نا اپنے شاگردوں کو اطمینان دے کہ عنقریب تم میرا یہ نشان دیکھیں گے کہ جنہوں نے مجھ پر تلوار اٹھائی وہ میری زندگی اور میرے مشافہ میں تلواروں سے ہی قتل کئے جائیں گے۔سو اگر ثبوت کچھ چیز ہے تو اسے بڑھ کر عیسائیوں کے لئے اور کوئی ثبوت نہیں ریح اپنے منہ سے پیشگوئی کرتا ہے کہ ابھی تم میں سے بعض زندہ ہوں گے کہ میں پھر آؤں گا یہ لے ظاہر ہے کہ حضرت مسیح موعود علی اسلام کی بیان فرمودہ یہ وضاحت ہی صیح اور قابل قبول ہے کیونکہ اسی سے حضرت مسیح کا قول درست ثابت ہوتا ہے ورنہ ان کے قول کو غلط اور جھوٹا مانا پڑتا ہے۔واقعات بھی یہی بتاتے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے جب کشمیر کی طرف ہجرت کی تو اسکی بعد ہی یہ سب واقعات ظہو کر کی میں آئے۔پس اگر حضرت مسیح علیہ السلام کا قوبل درست ہے اور یہ یقینا درست ہے تو پھر یہ بات بھی یقیناًا درست اور کچی ہے کردہ ہر گز صلیب پر فوت نہیں ہوئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس دلیل کو بیان فرمانے کے بعد آخر میں فرماتے ہیں : - و مسیح کے صلیب سے بچ جانے کے لئے یہ آیت جو متی 4 باب میں پائی جاتی ہے بڑا ثبوت ہے۔لہ تئیسویں دلیل حضرت مسیح علیہ السلام کی صلیبی موت کے خلاف ایک اور دلیل حضرت مسیح پاک علیہ السلام نے یہ بیان فرمائی ہے کہ اناجیل میں مردوں کے قبروں میں سے زندہ ہو کر باہر نکل آنے کا جو واقعہ درج ہے اس کو ظاہر -: مسیح ہندوستان میں منا ٣ جلد ١٥ : ايضا : : حت ÷