کسر صلیب

by Other Authors

Page 390 of 443

کسر صلیب — Page 390

۳۹۰ جیتا ہے لیکن وہ یقین نہ لائے پھر وہ حواریوں میں سے دو کو جبکہ وہ دیہات کی طرف جاتے تھے دکھائی دیا آخر وہ گیار ہوں کو جبکہ وہ کھانے بیٹھے تھے دکھائی دیا اور ان کی بے ایمانی اور ریخت دلی پر علامت کی۔دیکھو انجیل مرقس باب ۱۶ آیت ۹ سے آیت ۴ تک۔اور جب مسیح کے حواری سفر کرتے ہوئے اس بستی کی طرف جا رہے تھے جس کا نام املوس ہے جو یروشلم سے پونے چار کوس کے فاصلہ پر ہے تب مسیح ان کو ملا اور جب وہ اس بستی کے نزدیک پہنچے تو مسیح نے آگے بڑھ کر چاہا کہ ان سے الگ ہو جائے تب انہوں نے اس کو جانے سے روک لیا کہ آج رات ہم اکٹھے رہیں گے اور اسینی اُن کے ساتھ بیٹھ کر روٹی کھائی اور وہ سب مع مسیح کے الویس نام ایک گاؤں میں رات رہے۔دیکھو لوقا باب ۲۴ آیت ۱۳ سے ۳۱ تک کا اے (9) اس ساری تفصیل کے بعد استدلال یوں فرمایا ہے :- اب ظاہر ہے کہ ایک جلالی جسم کے ساتھ جو موت کے بعد خیال کیا گیا ہے۔سیح سے فانی جسم کے عادات صادر ہوتا اور کھانا اور پینیا اور سونا اور جلیل کی طرف ایک لمبا سفر کرنا جویروشلم سے قریبا ستر کوس کے فاصلہ پچہ تھا بالکل غیر مکن اور غیر معقول بات ہے اور باوجود اس کے کہ خیالات کے میلان کی وجہ سے انجیلوں کے ان قصوں میں بہت کچھ تغیر ہو گیا ہے تاہم جس قدر الفاظ پائے جاتے ہیں ان سے صریح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ مسیح اس فانی اور معمولی جسم سے اپنے حواریوں کو ملا اور پیادہ پا جلیل کی طرف ایک نمیا سفر کیا اور حواریوں کو اپنے زخم دکھلائے اور رات ان کے پاس روٹی کھائی اور سویا نہ سکے جلالی جسم کے عذر کا جواب دیتے ہوئے فرمایا : - یہ مقام ایک سوچنے کا مقام ہے کہ کیا ایک جلالی اور ابدی جسم پاتے کے بعد یعنی اس غیر فانی جسم کے بعد جو اس لائق تھا کہ کھانے پینے سے پاک ہو کہ ہمیشہ خدائے تعالے کے دائیں ہاتھ بیٹھے اور ہر ایک داغ اور درد اور نقصان سے منزہ ہو اور ازلی ابدی خُدا کے جلال کا اپنے اندر رنگ رکھتا ہو ابھی اس میں یہ نقص باقی رہ گیا کہ اس پر صلیب اور کیلوں کے تازہ زخم موجود تھے جن سے خون بہتا تھا اور درد اور تکلیف ان کے ساتھ تھی جن کے واسطے ایک مرہم بھی تیار کی گئی تھی اور جلالی اور غیر فانی جسم کے بعد بھی جو ابد (۱۰) :- مسیح ہندوستان میں ص۔جلد ۱۵ : : الضا