کسر صلیب — Page 391
۳۹۱ (H) تک سلامت اور بے عیب اور کامل اور غیر متغیر چاہیئے تھا کسی قسم کے نقصانوں سے بھرا رہا اور خود مسیح نے حواریوں کو اپنا گوشت اور ہڈیاں دکھلائیں اور پھر اسی پر کفایت نہیں بلکہ اس فانی جسم کے لوازم میں سے بھوک اور پیاس کی درد بھی موجود تھی دور نہ اس لغو شرکت کی کیا ضرورت تھی کہ مسیح جلیل کے سفر میں کھاتا پیتا اور پانی پینیا اور آرام کرتا اور سوتا۔اس میں کیا شک ہے کہ اس عالم میں جسم فانی کیلئے بھوک اور پیاس بھی ایک درد ہے جس کی حد سے زیادہ ہونے سے انسان مرسکتا ہے۔پس بلاشبہ یہ بات سچ ہے کہ مسیح صلیب پر نہیں مرا اور نہ کوئی نیا جلالی جسم پایا بلکہ ایک غشی کی حالت ہو گئی تھی جو مرنے سے مشابہ تھی۔لہ 1 حال کے عیسائیوں کی یہ نہایت سادہ لوحی ہے کہ وہ خیال کرتے ہیں کہ یسوع مسیح مرکز نئے سرے سے زندہ ہوا کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو وہ خدا جو محض قدرت سے اس کو زندہ کرتا اسکی زخموں کو بھی اچھا کر دنیا بالخصوص جبکہ کہا جاتا ہے کر دوسرا جسم خلالی ہے جو اسمان پر اٹھایا گیا اور خدا کی راستی طرف جا بیٹھا تو کیا قبول کر سکتے ہیں کہ جلالی جسم پر بھی یہ زخموں کا کلنک باقی رہا ہے یہ (ہوا) یہ بات انجیلوں سے بھی ثابت ہوتی ہے کہ جب حضرت مسیح نے صلیہ سے نجات پائی کہ جو درحقیقت دوبارہ زندگی کے حکم میں تھی تو وہ اپنے حواریوں کو ملے اور اپنے زندہ سلامت ہونے کی خبر دی۔حواریوں نے تعجب سے دیکھا کہ صلیب پر سے کیونکر بچ گئے۔اور گمان کیا کہ شاید ہمارے سامنے ان کی روح متمثل ہوگئی ہے تو انہوں نے اپنے زخم دکھلائے جو صلیب پر باندھنے کے وقت پڑ گئے تھے تب حواریوں کو یقین آیا کہ خدا تعالیٰ نے یہودیوں کے ہاتھ سے ان کو نجات دی " سے (۱۳) جن واقعات کو انجیلوی نے پیش کیا ہے ان سے ظاہر ہے کہ صلیب سے رہائی پانے کے بعد صرف خاکی جسم حضرت عیسی کا مشاہدہ کیا گیا جیسا کہ جب دھوما حواری نے شک کیا کہ کیونکر عیسی صلیب سے رہائی پا کہ آگیا توحضرت عیسی نے ثبوت دینے کے لئے اپنے زخم اس کو دکھلائے اور دھوما نے ان زخموں میں انگلی ڈالی۔پس کیا ممکن ہے کہ جلالی جسم میں بھی -::- I : مسیح ہندوستان میں ۲ جلد ۱۵ : حمد ۲۶-۲۵ سے : ست بچن حاشیه ص روحانی خزائن جلد ۱ : ے : ست بچن حاشیه ها روحانی خزائن جلد ۱۰: