کسر صلیب — Page 30
i بعثت کا ایک اہم مقصد صلت ستید نا حضرت مسیح موضور علیہ السلام کا علم کلام بہت وسیع اور ہمہ گیر علم کلام ہے۔آپ نے ہندوستان میں موجود ہر مذہب کے روئیں دلائل بیان فرمائے اور سب مذاہب ہی سے کامیاب مقابلہ فرمایا ہے لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ آپ کی س سے زیادہ توجہ عیسائیت کے رد کی طرف رہی ہے اور ہونا بھی ایسے ہی چاہیئے تھا۔کیونکہ عیسائیت ہی اس وقت دیگر سب مذاہب سے بڑھ کر اسلام پر حملہ آور تھی۔لیکن اس خاص توجہ بلکہ ہر وقت عیسائی مذہب کے استیصال پر آپ کی توجہ مرکو نہ رہنے کا حقیقی سبب یہ تھا کہ آپ کی بعثت کے مقاصد میں سے سب سے اہم مقصد اسلام کو دیگر سب مذاہب کے مقابل پر سر بلند کرنا تھا جن میں عیسائیت پیش پیش تھی۔گویا عیسائیت کا مقابلہ کر کے اسے مغلوب کرنا آپ کی آمد کا سب سے بڑا مقصد تھا۔آپ فرماتے ہیں :- ہمارا سب سے بڑا کام تو ہے " لے حدیث نبوی میں مسیح موعود کی بعثت کی غرض یوں بیان کی گئی ہے :- - " يكسر الصليب ويقتل الخنزير له یعنی مسیح موعود کے آنے کی غرض یہ ہوگی کہ وہ صلیب کو توڑ دے اور خنزیروں کو قتل کر ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ اعلان فرمایا ہے کہ خدا نے اپنے وعدہ کے مطابق مسیح موعود کو اس امت محمدیہ میں سے پیدا کر دیا ہے اور اس کی آنے کا یہی مقصد ہے کہ صحیح معنوں میں کسیر صلیب ہو جائے۔آپ نے یہ بھی تحریر فرمایا ہے کہ زمانے بھی نوبت به نوبت آتے ہیں اور یہ زمانہ جو مسیح موعود کا زمانہ ہے کسیر صلیب کا نہ مانہ ہے۔آپ فرماتے ہیں : " نہ مانہ میں خدا نے تو بتیں رکھتی ہیں۔ایک وہ وقت تھا کہ خدا کے سچے مسیح کو صلیب نے توڑا اور اس کو زخمی کیا تھا اور آخری زمانہ میں یہ متقد یہ تھا کہ بر تاته مسیح صلیب کو توڑ سے گا۔یعنی آسمانی نشانوں سے کفارہ کے عقیدہ کو دنیا - اُٹھا دے گا۔عوض معارضہ گلہ ندارد" کے ۲۵ : ملفوظات جلد پنجم مش است - بخاری باب نزد عیسی بن مریم علیه السلام : حقیقت الومی ۲۳