کسر صلیب — Page 316
ایما " پھر جب دیکھتے ہیں کہ یسوع کے کفارہ نے حواریوں کے دلوں پر کیا اثر کیا۔کیا وہ اس پر ایمان دلوں لا کہ گناہ سے بانہ آگئے تو اس جگہ بھی بچی پاکیزگی کا خانہ خالی ہی معلوم ہوتا ہے۔یہ تو ظاہر ہے کہ وہ لوگ سولی ملنے کی خبر کو سن کر ایمان لا چکے تھے لیکن پھر بھی نتیجہ یہ ہوا کہ یسوع کی گرفتاری پر پطرس نے سامنے کھڑے ہو کہ اس پر لعنت بھیجی باقی سب بھاگ گئے اور کسی کے دل میں اعتقاد کا نوکر باقی نہ رہا ہے ان سب مقالوں کو بیان کرنے کے بعد حضور نے استدلال فرمایا ہے کہ :۔؟ ان تمام واقعات سے بکمالی صفائی ثابت ہوتا ہے کہ لعنتی قربانی گناہ سے روک نہیں سکی ہے ان مذکورہ بالا حوالہ جات سے عیسائیوں کا یہ اصول سراسر باطل اور خلاف واقعہ ثابت ہوتا ہے کہ کفارہ پر ایمان لانے سے گناہوں کا صدور رک جاتا ہے۔پس ثابت ہوا کہ جب یہ اصول باطل ہے تو نہ کفارہ کی کوئی ضرورت ہے اور نہ فائدہ۔لہذا کفارہ ہے کا ر ہے۔اگرچہ یہ بات دلائل سے ثابت نہیں ہوتی کہ کفارہ سے گناہ رک جاتے ہیں لیکن اگر ہم بغیر کسی دلیل کے وقتی طور پر یہ فرض بھی کرلیں کہ ایسا ہو جاتا ہے یعنی کفارہ سے گناہ دُور ہو جاتے ہیں تو انسانی اخلاق کے اعتبار سے یہ بات کوئی خاص قابل تعریف نہیں کہ کسی انسان میں گناہ نہیں ہیں۔یہ ایک منفی پہلو ہے۔اصل نیکی تو یہ ہے کہ وہ مثبت طور پر نیک اعمال بجالائے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اخلاقی معیار کے اس پہلو سے بھی کفارہ پر تنقید فرمائی ہے۔آپ فرماتے ہیں :- " صرف ترک سے وصول نہیں ہوتا کیونکہ ترک مستعلام وصول نہیں۔۔۔۔۔۔ترک معاصی اور شے ہے اور نیکیوں کا حصول اور قرب الہی دوسری شے ہے۔عیسائیوں نے بھی اس معاملہ میں بڑا دھوکا کھایا ہے کہ میسوع کے پھانسی ملنے سے ہمارے گناہ دُور ہو گئے۔اول تو یہ بات ہی غلط ہے کہ ایک شخص کا پھانسی مناسب کے گناہ دور کر د ہے۔دوم اگر گناہ دُور بھی ہو جاویں تو صرف گناہ کا موجود نہ ہونا کوئی خوبی کی بات نہیں ہے۔بہت کیڑے مکوڑے اور بھیڑ بکریاں دنیا میں موجود ہیں جن کے ذمہ کوئی گناہ نہیں لیکن وہ خدا کے مقربوں میں شمار نہیں ہو سکتے اور ایسا ہی کثرت سے اس قسم کے ایلہ اور سادہ لوح لوگ موجود ہیں جو کوئی گناہ نہیں کرتے نہ چوری ، نہ نہ نا، نہ جھوٹ ، نہ بد کاری نہ خیانت لیکن ان گناہوں کے نہ کرنے کے سبب وہ مقربانِ الہی میں شمار نہیں ہو سکے " سے کا ه : ست بین ملک جلد ا ب سے :- سراجدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب ملا جلد ۱۲ باشه ، ملفوظات جلد نهم مش ۲۹