کسر صلیب

by Other Authors

Page 315 of 443

کسر صلیب — Page 315

۳۱۵ بھی کرتا ہی رہا ہے عقیدہ کفارہ انسانوں کو گناہ سے بچا نہیں سکا۔حضور علیہ السّلام تحریر فرماتے ہیں :- یہ جھوٹا کفارہ کسی کو نفسانی جذبات سے بچا نہیں سکتا اور خود مسیح کو بھی بچا نہ سکا۔دیکھو وہ کیسے شیطان کے پیچھے پیچھے چلا گیا حالانکہ اس کو جانا مناسب نہ تھا۔۔۔غرض کفارہ مسیح کی ذات کو بھی کچھ فائدہ نہ پہنچا سکا " ہے گویا ثابت ہوا کہ باوجود کفارہ پر ایمان لانے کے خود مسیح بھی گناہ سے محفوظ نہ رہ سکا۔اس سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ کفارہ کا یہ اصول دوسرے انسانوں کے گناہ معاف کرنے کے لئے کتنا مفید اور کار گر ثابت ہو سکتا ہے۔صرف حضرت مسیح علیہ السلام کی ذات کا سوال نہیں بلکہ یہ کفارہ نہ گذشتہ نبیوں کو گناہ سے روک سکا اور نہ حواریوں کو گناہ سے محفوظ رکھ سکا۔ان سے بھی دعیسائی عقیدہ کے مطابق، برابر گناه صادر ہوتے رہے۔چنانچہ حضور فرماتے ہیں :- بموجب عقیدہ عیسائیوں کے حضرت داؤد علیہ السلام بھی کفارہ میسوع پر ایمان لائے تھے لیکن بقول ان کے ایمان لانے کے بعد نعوذ باللہ حضرت داؤد نے ایک لیے گناہ کو قتل کیا اور اس کی جورو سے زنا کیا اور نفسانی کاموں میں خلافت کے خزانہ کا مال خرچ کیا اور منشور تک جو رو کی۔اور اخیر عمر تک اپنے گناہوں کو تازہ کرتے رہے اور ہر رونہ کمال گستاخی کے ساتھ گناہ کا ارتکاب کیا۔پس اگر یسوع کی معنی قربانی گناہ سے روک سکتی تو بقول ان کے داؤ د اس قدر گناہ میں نہ ڈوبتا۔ایسا ہی میسوع کی تین نانیاں زنا کی بُری حرکت میں مبتدا ہوئیں۔پس ظاہر ہے کہ اگر میسوع کی لعنتی قربانی پر ایمان لاتا اندرونی پاکیزگی پیدا کر نے کے لئے کچھ اثر رکھتا تو اس کی نانیاں ضرور اسی فائدہ اٹھائیں اور ایسے قابل شرم گناہوں میں مبتلا نہ ہوتیں۔ایسا ہی میسوع کے حواریوں سے بھی ایمان لانے کے بعد قابل شرم گناہ سر زد ہوئے۔یہودا اسکر یوٹی نے تین روپیہ پر یسوع کو بیچا اور پطرس نے سامنے کھڑے ہو کر تین مرتبہ سیوع پر لعنت بھیجی اور باقی سب بھاگ گئے اور ظاہر ہے کہ نبی پر لعنت بھیجنا سخت گناہ ہے۔" نیز نر مایا : 14 ه ست بچن ما روحانی خزائن جلد ۱۰ + :- ملفوظات جلد چهارم ص : : سراجدینے عیسائی کے چار سوالوں کا جواب منا، ملا جلد ۱۲ :