کسر صلیب — Page 313
- گناہ کی زندگی اور موت سے بچے جانے کا نام ہے مگر میں پوچھتا ہوں کہ خدا کیلئے مگر انصاف کر کے بتاؤ کہ گناہ کو کسی کی خود کشی سے فلسفیانہ طور پر کیا تعلق ہے۔اگر مسیح نے نجات کا مفہوم یہی سمجھا اور گناہوں سے بچانے کا یہی طریق انہیں سوجھا تو پھر نعوذ باد ہم ایسے آدمی کو تو رسول بھی نہیں مان سکتے کیونکہ اس سے گنا ہ رک نہیں سکتے اے " (۳) انہوں نے گناہ سے پاک ہونے کا ایک پہلو سوچا ہے اور وہ یہ ہے کہ حضرت عیسی کو خدا اور خدا کا بیٹا مان لو اور پھر یقین کر لو کہ اس نے ہمارے گناہ اُٹھا لئے۔اور وہ صلیب کے ذریعہ لعنتی ہوا۔نعوذ باللہ من ذالک۔اب غور کرو کہ حصول نبات کو اس طریق سے کیا تعلق ؟ گناہوں سے بچانے کے لئے ایک اور بڑا گناہ تجویز کیا کہ انسان کو خدا بنایا۔گیا۔کیا اس سے بڑھ کر کوئی اور گناہ ہو سکتا ہے؟ پھر خدا بنا کر اسے معا ملعون بھی قرالہ دیا۔اس سے بڑھ کر گستاخی اور بے ادبی اللہ تعالٰی کی کیا ہوگی ؟ ایک کھاتا پیتا حوائج کا محتاج خدا بنا لیا گیا۔غرض عیسائیوں نے گناہ کے دُور کرنے کا جو علاج تجویز کیا ہے وہ ایسا علاج ہے جو بجائے خود گناہ کو پیدا کرتا ہے اور اس کو گناہ سے نجات پانے کے ساتھ کوئی تعلق ہی نہیں ہے؟ : " (A) یہ خیال کرگو یا حضرت علی علیہ السلام کے صلیب دئے جانے پر ایمان لانا او ران کوخدا سمجھنا انسان کے تمام گناہ معاف ہو جانے کا موجب ہے۔کیا ایسے خیال سے توقع ہو سکتی با ہے کہ انسان میں سچی نفرت گناہ سے پیدا کر رہے۔صاف ظاہر ہے کہ ہر ایک ضد اپنی ضد سے دور ہوتی ہے۔سردی کو گرمی دور کرتی ہے اور تاریکی کے ازالہ کا علاج روشنی ہے۔پھر یہ علاج کس قسم کا ہے کہ زید کے مصلوب ہونے سے بھر گناہ سے پاک ہو جائے اسے (4) ہمیں کچھ کچھ میں نہیں آتا کہ اس قسم کی مظلومانہ موت سے دوسروں کے دل گناہ کی فصلت سے کیونکر صاف اور پاک ہو سکتے ہیں۔اور کیونکر ایک بے گناہ کے قتل ہونے : ملفوظات جلد سوم مشتت : - برا این احمدیہ حصہ پنجم صب۔جلد ۲۱ + :- ملفوظات جلد ہشتم ص ۲۵