کسر صلیب — Page 314
ام رستم سے دوسروں کو گذشتہ گناہوں کی معافی کی سند مل سکتی ہے" سے (6) انہوں نے گناہ سے پاک ہونے کا ایک پہلو سوچا ہے۔اور وہ یہ ہے کہ حضرت عیسی کو خدا اور خدا کا بیٹا مان لو۔اور پھر یقین کر لو۔کہ اس نبی ہمار سے گناہ اُٹھا لئے اور وہ صلہ کے ذریعے لعنتی ہوا۔نعوذ باللہ من ذالک۔اب غور کرو کہ حصول نجات کو اس طریق سے کیا تعلق ہے کے اور آخر میں بطور خلاصہ فرمایا :- " جب ہم انجیل کی طرف آتے ہیں تو گناہ سے بچنے کے لئے صرف اس میں ایک غیر معقول طریق پاتے ہیں جس کو انزالہ گناہ سے کچھ بھی تعلق نہیں " سے پس ان حوالوں سے ظاہر ہے کہ عیسائیت کے پیش کر وہ طریق بنجات یعنی کفارہ کا گناہوں کی معافی کے ساتھ کوئی حقیقی اور درست تعلق نہیں ہے۔گویا کفارہ سے گناہوں کی معافی کی امید رکھنا ایک طمع خام ہے جس کی کچھ حقیقت نہیں۔پس اس دلیل سے ثابت ہوتا ہے کہ جب کفارہ کا گناہوں کی معافی سے کوئی تعلق نہیں تو یہ طریق نجات باطل ہے۔اکتیسوتین دلیل گناہ کی معافی کے ضمن میں کفارہ کے رد میں اکتیسویں دلیل یہ ہے کہ عیسائی تو یہ کہتے ہیں کہ کفارہ پر یقین لانے سے انسان کے سب گناہ معاف ہو جاتے ہیں اور پھر انسان گناہ نہیں کرتا لیکن جب ہم اصولی طور پر غور کرتے ہیں تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ باوجود کفارہ پر ایمان لانے کے لوگوں سے گناہ دُور نہیں ہوا اگر ہم ایک بھی ایسی مثال پیش کر دیں کہ کفارہ پر ایمان لانے کے بعد انسان سے گناہ سرزد ہوا تو اس سے کفارہ کا اصول باطل ہو جاتا ہے۔چنانچہ سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السّلام نے اس دلیل کو اس رنگ میں پیش فرمایا ہے کہ کفارہ دنیا میں گناہوں کے صدور کو روک نہیں سکا۔حضرت مسیح علیہ السلام کے بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام لطیف رنگ میں تحریر فرماتے ہیں :- اس نے تمام کے گناہ اٹھا کہ پھر گناہ کیا کہ اس کو معلوم تھا کہ دکھا قبول نہ ہوگی مگر پھر اه : لیکچری ہور مکا ر خ جلد ۲۰ به سے لیکچر لدھیانہ نے جلد ۲۰ کے :- محمد کو