کسر صلیب — Page 305
۳۰۵ طور پر بالکل درست ہے کہ پھر نیک اعمال کے نتیجہمیں بھی نیک اثر پیدا ہونا چاہیئے اور نجات منی چاہیئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس جگہ تو عقل سے استدلالی فرمایا ہے۔ویسے امر واقعہ بھی یہی ہے کہ عیسائی تعلیمات سے بھی اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ نیک اعمال سے انسان کو نجات مل جاتی ہے۔یاد رہ ہے کہ عیسائی کفارہ کی بنیاد میں اس مفروضہ کو بھی شامل کرتے ہیں کہ نیک اعمال سے نجات نہیں ہوسکتی۔حالانکہ بائیل کے مندرجہ ذیل حوالوں سے حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کے عقلی استدلال کے عین مطابق یہ ثابت ہوتا ہے کہ نیک اعمال سے انسان نجات حاصل کر لیتا ہے لکھا ہے کہ :-۔مبارک وہ جو دن کے غریب ہیں کیونکہ آسمانی بادشاہت ان کی ہے۔مبارک ہیں وہ جو دل کے پاک ہیں خدا کو پہنچیں گئے ؟ اے " جیسے جسم بے روح ہوتا ہے ویسے ایمان بھی بے عمل مردہ ہے ؟ " پھر لکھا ہے: نیز لکھا ہے :- در تو بہ کرو کیوں کہ آسمان کی بادشاہت نزدیک آگئی ہے " سے پھر نہ قیل نبی کی کتاب کے باب ۱۸ میں اور حضرت مسیح کے مشہور پہاڑی وعظ میں اس بات کو بڑی وضاحت سے بیان کیا گیا ہے کہ جوشن کہ عمل نہیں کرتا وہ نقصان اُٹھائے گا۔پس ان بیانات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ نیک اعمال بجالانا بائیبل کے رو سے بھی ضروری ہے۔اس سے عیسائیوں کا یہ مفروضہ باطل ہو جاتا ہے کہ نیک اعمال کے وسیلہ سے نجات نہیں ہو سکتی۔نجات صرف کفارہ سے ہے۔سوال یہ ہے کہ اگر کفارہ کے باوجود نیک اعمال کی ضرورت ہے جیسا کہ ثابت ہو چکا تو پھر ایسے کفارہ کی ضرورت ہی کیا ؟ پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو استدلال عقلی نہ نگ میں پیش فرمایا تھاوہ بائیبل کی تعلیم سے بھی ثابت ہوتا ہے اور اس طرح کفارہ کا ایک بنیادی مفروضہ باطل ہو جاتا ہے۔چھویں دلیل بے جب کفارہ کے عقیدہ کا مختلف اعتبالہ سے تجزیہ کیا جاتا ہے اور اس پر کڑی تنقید کی جاتی ہے تو عیسائی حضرات یہ کہ دیا کر تے ہیں کہ کفارہ بھی تثلیث کی طرح ایک بہانہ ہے جس کی حقیقت کو سمجھنا انسانی سمجھ سے باہر ہے۔اگر تو یہ اس وجہ سے ہے کہ کفارہ کا مسئلہ انسانی عقل کے خلاف ہے تو پھر تو یہ مسئلہ ہی باطل ہو جاتا ہے۔: متین ے : یعقوب : - A-F ے : متی ہے :