کسر صلیب — Page 306
ہر یا اور اگر اس وجہ سے اس کو رانہ قرار دیا جاسکتا ہے کہ انسانی عقل اپنی کمزوری یا کوتا ہی کی وجہ سے اس کو سمجھنے سے قاصر ہے تو یہ امر عیسائیت کے خلاف ایک زہیرہ دست اعتراض کی بنیاد بنتا ہے کہ وہ کیوں ایسے عقائد پیش کرتی ہے جن کو کوئی انسان کبھی سمجھ ہی نہیںسکتا۔کیا انکو را ز قرار دینا کسی غلطی اور امی کی پردہ پوشی کا ذریعہ ہے یا عیسائیت اپنے ماننے والوں سے یہ مطالبہ کرتی ہے کہ وہ آنکھیں بند کر کے ہر صحیح یا غلط عقیدہ یہ کو مان لیا کریں۔بہر حال ہر عقیدہ کو رازہ قرار د سے کہ اس کی دلیل دینے سے گریز کرنا عند العقل قابل قبول نہیں۔بلکہ ایسا طریق واضح کرتا ہے کہ ان عقائد میں کوئی ایسی بنیادی خاصی اور غلطی ہے جس کی وجہ سے یہ نہ سمجھے جاسکتے ہیں اور نہ سمجھائے جا سکتے ہیں۔آخر ان کو انہ قرار دینے کی کیا حکمت اور کیا " کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے" وجہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی اس دلیل کو پیش فرمایا ہے۔آپ فرماتے ہیں۔و انجیل خاموش کے چالاک اور عیار حامیوں نے اس خیال سے کہ انجیل کی تعلیم عقلی زدہ کے مقابل ہے جان محض ہے نہایت ہوشیاری سے اپنے عقائد میں اس امر کو داخل کر لیا کہ تثلیث اور کفارہ ایسے راز ہیں کہ انسانی عقل ان کی کنہ تک نہیں پہنچ سکتی ہے پس ثابت ہوا کہ کفارہ کو ایک رانہ قرار دینا اس کے باطل ہونے کی زیر دست دلیل ہے کیونکہ۔کوئی ایسا عقیدہ جو انسانوں سے متعلق بلکہ ان کی نجات کا ذریعہ ہو سربستہ رانہ نہیں رکھا جا سکتا اور نہ ایسا ہونا چاہیے وہ نہ اس عقیدہ کا وجود اور عدم برابر ہوں گے۔ستائیسوس دليل س کفارہ کی تردید میں ایک اور دلیل یہ ہے کہ کفارہ کو اگر بالفرض نجات کا ذریعہ تسلیم بھی کر لیا جائے تو یہ نجات کا کوئی مکمل اور قابل اعتبار ذریعہ نہیں کیونکہ یہ بات عیسائی مسلمات میں داخل ہے کہ مسیح نے ایک ہی دفعہ صلیب پائی مسیح دو دفعہ مصلوب نہیں ہو سکتا۔اب اگر مسیح دوبارہ مصلوب ہو کر ایک بارہ پھر گناہوں کا کفارہ نہیں ہو سکتا تو وہ گناہ جو کفارہ پر ایمان لانے کے بعد سرزرد ہوں ان کی بخشش کا ذریعہ کیا ہو؟ اس اشکال کا عیسائیت کے پاس کوئی جواب نہیں۔ایک ہی صورت ان گناہوں کے کفارہ کی ہو سکتی ہے کہ خدا کا بیٹا بار دگر مصلوب ہو لیکن ایسا ہو نہیں سکتا۔گویا پھر ان گناہوں کا کوئی علاج نہ ہوا پس کفارہ کا اصول ناکافی اور نامکمل ہے۔یہ تو گویا ایک لحاظ سے نجات کی راہ بند کر دیتا ہے۔ه: ملفوظات جلد اول ص :