کسر صلیب

by Other Authors

Page 272 of 443

کسر صلیب — Page 272

پر متفق ہیں کہ ملعون یا لعنتی صرف اس حالت میں کسی کو کہا جاتا ہے جبکہ اس کا دل درحقیقت خدا سے تمام تعلقات محبت اور معرفت اور اطاعت کے توڑو سے اور شیطان کا ایسا تابع ہو جائے کہ گویا شیطان کا فرزند ہو جائے اور خدا اس سے بیزارہ اور وہ خدا سے بیزار ہو جائے اور خُدا اُس کا دشمن اور وہ خُدا کا دشمن ہو جائے۔اسی لئے لعین شیطان کا نام ہے پس وہی نام حضرت مسیح علیہ السلام کے لئے تجویز کرنا اور ان کے پاک اور منور دل کو نعوذ باللہ شیطان کے تار یک دل سے مشابہت دنیا اور وہ جو بقول ان کے خدا سے نکلا ہے اور وہ جو سراسر نور ہے اور وہ جو آسمان سے ہے اس کی نسبت نعوذ باللہ یہ خیال کرتا کہ وہ لعنتی ہو کہ یعنی خدا سے مردود ہو کر اور خدا کا دشمن ہو کہ اور دل سیاہ ہو کر اور برگشتہ ہو کر اور معرفت الہی سے نابینا ہو کر شیطان کا وارث بن گیا اور اس لقب کا مستحق ہو گیا جو شیطان کے لئے خاص ہے یعنی لعنت۔یہ ایک ایسا عقیدہ ہے کہ اسے سننے سے دل پاش پاش ہوتا ہے اور بدن پر لرزہ پڑ تا ہے کیا خدا کے مسیح کا دل خدا سے ایسا ہر گشتہ ہو گیا جیسے شیطان کا دل ؟ کیا خدا کے پاک مسیح پر کوئی ایسا زمانہ آیا جس میں وہ خدا سے بیزالہ اور در حقیقت خدا کا دشمن ہو گیا۔یہ بڑی غلطی اور بڑی بے ادبی ہے۔قریب ہے جو آسمان اس سے ٹکڑے ٹکڑ سے ہو جائے یا کے (لم) T یسوع کا لعنتی ہو جانا گر وہ تین دن کے لئے ہی سہی عیسائیوں کے عقیدہ میں داخل ہے اور اگر یسوع کو لعنتی نہ بنایا جائے تو مسیحی عقیدہ کی رو سے کفارہ اور قربانی وغیرہ سب باطل ہو جیا تے ہیں گویا اس تمام عقیدہ کا شہتیر لعنت ہے" کے جاتے (0) "جب لعنت اپنے مفہوم کے رو سے سیخ جیسے راستبانہ انسان پر ہرگز جائز نہیں تو پھر کفارہ کی چھت جس کا شہتیر لعنت ہے کیونکہ ٹھہر سکتی ہے" سے اس دلیل کے ضمن میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے یہ پانچ منتخب حوالہ جات اپنے مفہوم میں بڑے واضح ہیں۔اسی دلیل کو حضور علیہ السلام نے اپنی متعدد کتب میں تفصیل سے بیان فرمایا ہے۔چنانچہ اپنی کتب :- ے: ستاره قیصره ۱۲۱۵ جلد ۱۵ ه: کتاب البرية من جلد ١٣ : :- سراجدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب مٹ جلد ۱۲ :