کسر صلیب — Page 255
۲۵۵ اگر یہ ثابت ہو جائے کہ بابا آدم نے گناہ کیا اور اس گناہ کے باعث جنت سے نکالے گئے اور ان کے گناہ کی سزا میں جملہ ذریت آدم شامل ہے اور سنجے گناہ کیا کوئی نیکو کار نہیں۔اور ایک بھی نہیں۔تو پھر یہی کفارہ کا سمجھنا آسان تر ہو جاتا ہے ؟ اے گویا تمام بنی آدم کا گنہگار ہونا کفارہ کی ایک بنیادی کڑی اور اصول ہے۔تردید کفارہ کے ضمن میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس امرکو پیش فرمایا ہے کہ یہ اصول غلط ہے۔یہ کہنا کہ تمام بنی آدم مورتی طوبہ پر گناہ گار ہیں ایک ایسا دعوی ہے جس کا اول تو مثبت طور پر کوئی ثبوت نہیں دیا جا سکتا اور دوسرے خود بائبل کی شہادت اس کے خلاف ہے بائبل میں بہت سے لوگوں کے بارہ میں صاف طور پر لکھا ہے کہ وہ نیک تھے۔مثلا لکھا ہے :- نوح اپنے قرنوں میں صادق اور کامل تھا اور نوح خدا کے ساتھ ساتھ چلتا تھا یا ہے حضرت ذکریا اور ان کی بیوی کے متعلق لکھا ہے :- وہ اور اور پر وہ دونوں خدا کے حضور راستبانہ اور خداوند کے سارے سے حکموں اور قانونوں پر بے عیب چلنے والے تھے سے اس قسم کے متعدد حوالے ملتے ہیں جن سے یوحنا۔ہابیل - دانیال - بوسیع - زکریا او ران کی بیوی - حزقیاه - سمسون بن منوحہ جموئیل - شمعون۔یوسف شو ہر مریم کا از روئے بائبل کوئی گناہ ثابت نہیں ہو تا گویا وہ بے گناہ ٹھہر سے۔اس سلسلہ میں تیسری بات یہ ہے کہ بائبل سے اصولی طور پر اس بات کا علم ہوتا ہے کہ دنیا میں ہر دو قسم کے لوگ رہتے ہیں۔اچھے بھی اور بڑے بھی۔چنانچہ لکھا ہے :۔" تاکہ تم اپنے باپ کے جو آسمان پہ ہے بیٹے ٹھہرو کیونکہ وہ اپنے سورج کو بدوں اور نیکوں دونوں پر چمکاتا ہے اور راستبازوں اور نا راستوں دونوں پر مینہ برساتا ہے۔شہ دونوں ان تینوں امور سے اس عیسائی مفروضہ کا غلط ہونا بالبداہت ثابت ہو جاتا ہے۔کہ سب کے سب بنی آدم موروثی طور پر گناہ گار ہیں اور ایک بھی نیک نہیں اور اس مفروضہ کے غلط ہونے سے کفارہ باطل ہو جاتا ہے۔چوتھی دلیل کفارہ کے عقیدہ کی ایک کڑی یہ ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام ہر قسم کے گناہ سے خواہ وہ کسی ہویا :- ہما را قرآن از سلطان محمد پال ضمیمہ صت بار اول لاہور شہ سے پیدائش پر سے لوقا با : شعار متی وی