کسر صلیب — Page 256
۲۵۶ موروثی پاک ہیں اور اسی وجہ سے صرف وہ ہی اس قابل ہیں کہ وہ ابن آدم کے لئے کفارہ ہو سکیں۔ایک عیسائی مسٹر ولیم ایڈ لکھتے ہیں :- اگر مسیح میں ایک گناہ بھی ہوتا تو وہ ہمارا نجات دہندہ نہ ہوسکتا لیکن اس میں کوئی گناہ نہ تھا یا ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس مفروضہ کی پر زور تردید فرمائی ہے۔آپ فرماتے ہیں :- یسوع کی نسبت بیان کیا جاتا ہے کہ وہ موروثی اور کیسی گناہ سے پاک ہے۔حالانکہ یہ صریح غلط ہے" عیسائی حضرات کے اس مفروضہ کے غلط ہونے کا ثبوت مختلف پہلوؤں سے دیا جا سکتا ہے :- اول : حضرت مسیح علیہ اسلام نے کسی جگہ یہ اعتراف یا دعوی نہیں کیا کہ میں ہرقسم کے گناہ سے پاک ہوں۔اگر ایسا دعوی ہے تو اس کا ثبوت دینا مدعی کا کام ہے جو کہ مسیح کی معصومیت کا قائل ہے۔دو مہ: بے گناہ ہونے کے دعوی کے بالکل برعکس انجیل سے یہ پتہ چلتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے اس بات کو بھی ناپسند کیا کہ کوئی ان کو نیک کہے۔لکھا ہے کہ حضرت مسیح نے کہا :- تو مجھے نیک کیوں کہتا ہے نیک تو کوئی نہیں مگر ایک یعنی خدا سے سوئم : - حضرت مسیح علیہ السّلام کے جو حالات اناجیل میں درج ہیں ان سے نہ ان کی شرافت ثابت ہو سکتی ہے اور نہ معصومیت۔صرف ایک آیت اس جگہ پیش کرتا ہوں۔یوجنات سے ثابت ہے کہ حضرت مسیح نے لوگوں کو شراب پلائی تھی۔دنیز ملاحظہ ہومتی ہے ، یوحنا ہی ، لوقا ہے ، 14-14 ** لوقا متی ، یوحنا وغیرہ۔چہارہ : حضرت مسیح کا یوحنا سے بپتسمہ لینا ثابت ہے (ملاحظہ ہو مرقس ہے ، یہ بپتسمہ تو گناہوں کی معافی کے لئے ہوتا ہے۔اگر مسیح واقعی بے گناہ تھا تو انہی بپتسمہ کیوں لیا۔جبکہ کوئی ایسا استثناء بھی مذکور نہیں کہ یہ گناہوں کی معافی کے لئے نہیں تھا۔نجم :۔عیسائی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام حضرت مریم کے پیٹ سے پیدا ہوئے تھے۔اور اس کے ساتھ ان کی کتاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ : " وہ جو عورت سے پیدا ہوا ہے کیونکہ پاک ہو سکتا ہے ا سکے پس ثابت ہوا کہ حضرت مسیح ہے گناہ نہ تھے۔سے مسیح کے خون کے سبب سے محفوظ مصنفہ ولیم ایڈایم۔اسے دترجمها منت بار اول د له : ۵۲ : - کتاب البریهه جلد ۱۳ : ۱۳ یوتا 4 مرتی ہے: ایوب : -: