کسر صلیب — Page 21
۲۱ حملہ آور ہو رہے تھے۔عیسائی، ہندو، آریہ غرضیکہ سب مذاہب والے ہی اسلام کے خلاف اپنے ترکش کے زہر یلے تیر خالی کر رہے تھے۔اسلام اس وقت حدیث نبوی کے مطابق انتہائی کس مپرسی کی حالت میں بدا الاسلام غريبًا وسيعود غريبًا كما بدأ کی عملی تصویر بن چکا تھا۔سب سے زیادہ افسوسناک اور پریشان کن بات یہ تھی کہ اسلام کے سدا بہار گلشن کے محافظ اور خرمن اسلام کے رکھوالے غیروں کے مقابلے کی تاب نہ لا کہ عاجزہ اور بے بس ہو چکے تھے۔ان میں کمزوری اور احساس کمتری پیدا ہو چکا تھا۔اسلام کے علماء اس قابل ہی نہ رہے تھے کہ وہ اس میدان میں اتریں۔غیر مذاہب کے باطل اعتراضات کو رد کرنے کے بعد اسلام کے روشن چہرہ سے نقاب کشائی کریں۔اور اغیار کو رڈ کے دعوت اسلام دیں مختصر یہ کہ اسلام اس وقت ایک مجید ہے جان بن چکا تھا۔اور دردمند مسلمان شاعر اس پر مرتبہ خواں تھے۔اسلام کی اس کمزوری اور دشمنوں کے حملوں کے کئی پہلو تھے۔ایک پہلو جدید علوم کی روشنی میں مذہبی اعتراضات کا تھا۔جن کا کوئی جواب نہ پاکر مسلمان ان اعتراضات کو ہی درست اور مبنی بر حقیقت سمجھ رہے تھے۔شبلی نعمانی اس طرز فکر کے بارہ میں لکھتے ہیں :- حال میں علم کلام کے متعلق مصر، شام اور ہندوستان میں متعدد کتابیں تصنیف کی گئی ہیں۔اور نئے علم کلام کا ایک دفتر تیار ہو گیا ہے۔لیکن یہ نیا علیم کلام دو قسم کا ہے۔یا تو وہی فرسودہ اور دورانہ کا ر مسائل اور دلائل ہیں۔جو متاخرین اشاعرہ نے ایجاد کئے تھے یا یہ کیا ہے کہ یورپ کے ہر قسم کے معتقدات اور خیالات کو حق کا معیا نہ قرار دیا ہے۔اور پھر قرآن وحدیث کو زبردستی کھینچے تان ان سے ملا دیا ہے۔پہلا کورانہ تقلید اور دوسرا تقلیدی اجتہاد ہے۔اے علم الکلام از شیلی حصہ اول مشا ظاہر ہے کہ یہ صورت احوال سخت پریشان کن تھی جس کو دیکھ کہ دردمندان اسلام کے دل ڈوبے جا رہے تھے علمی اعتراضات کے محاذ پر حامیان اسلام کی کمز در حالت کا نقشہ خون کے آنسو رلاتا تھا۔نئے علم کلام کی ضرورت :۔اس دور میں جس کا ہم ذکر کر رہے ہیں اسلام انسان استحکام