کسر صلیب — Page 22
۲۲ - کہ اور بیرونی دفاع۔ہر دو محاذ پر شکست کھاتا نظر آتا تھا۔زمانہ بیچارہ پکا نہ کہ کہہ رہا تھا کہ آج اسلام کو اس پر اپنے اور دقیانوسی قلم کے علم کلام کی نہیں بلکہ ایک جدید علم کلام کی ضرورت ہے جو اسلام کی عظمت گم گشتہ کو پھر سے واپس لے آئے اور اسلام سب ادیان باطلہ پر غالب آ آجائے۔آج جیسی علم کلام کی ضرورت تھی اس کا ذکر علامہ شبلی سے سنیئے عباسیوں کے زمانہ میں اسلام کو جس خطرہ کا سامنا ہوا تھا آج اس سے کچھ بڑھ کہ اندیشہ ہے۔مغربی علوم گھر گھر پھیل گئے ہیں اور آزادی کا یہ عالم ہے کہ پہلے زمانہ میں حق کہنا اس قدر سہل نہ تھا جتنا آج نا حق کہنا آسان ہے۔مذہبی خیالات میں عموما بھونچال سا آ گیا ہے۔نئے تعلیمیافتہ بالکل مرعوب ہو گئے ہیں۔قدیم علماء عزلت کے دریچہ سے کبھی سر نکال کر دیکھتے ہیں تو مذہب کا افق غبار آلود نظر آتا ہے۔ہر طرف سے صدائیں آرہی ہیں کہ پھر ایک نئے علم کلام کی ضرورت ہے اس ضرورت کو سب نے تسلیم کر لیا ہے " را، علم الکلام از شیلی حصہ اول ص ) یہ جدید علم کلام کس نوعیت کا ہو اس کے متعلق علامہ موصوف نے لکھا ہے :- قدیم علم کلام میں صرف عقائد اسلام کے متعلق بحث ہوتی تھی۔کیونکہ اس زمانہ میں مخالفین نے اسلام پر جو اعتراضات کئے تھے عقاید ہی کے متعلق تھے۔لیکن آج کل تاریخی، اخلاقی ، تمدنی ہر حیثیت سے مذہب کو جانچا جاتا ہے۔یورپ کے نزدیک کسی مذہب کے عقائد اس قدر قابل اعتراض نہیں جس قدر اس کے قانونی اور اخلاقی مسائل ہیں۔ان کے نز دیک تعدد نکاح ، طلاق غلامی - جہاد کا کسی مذہب میں جائز ہونا اس مذہب کے باطل ہونے کی سب سے بڑی دلیل ہے۔اس بناء پر علم کلام میں اس قسم کے مسائل سے بھی بحث کرنی ہوگی۔اور یہ حصہ با لکل نیا علم کلام ہوگا " علم الکلام از مشبلی حصہ دوم جنگ) خط) سب سے بڑی ضروری چیز یہ ہے کہ دلائل اور برا ہیں ایسے صاف اور سادہ پیرایہ میں بیان کئے جائیں کہ سریع الفہم ہونے کے ساتھ دل میں اتر جائیں قدیم ہو