کسر صلیب — Page 253
For کر وہ بیان جو گناہ کرتی ہے سو ہی مرے گی بیٹا باپ کی بدکاری کا بوجھ نہیں اٹھائے گا اور نہ باپ بیٹے کی بدکاری کا بوجہ اُٹھائے گا۔صادق کی صداقت اسی پر ہوگی اور شرعیہ کی شرارت پہ کی اسی پر پڑے گی " اے پس ثابت ہوا کہ قرآن مجید کا یہ اصول عقل اور عیسائی مسلمات کے اعتبار سے درست ہے اور چونکہ کفارہ اس اصول کے سراسر خلاف ہے۔پس کفارہ کا عقیدہ باطل ٹھہرا۔اس دلیل کو پیش کرتے ہوئے سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :- رہا وہ مسئلہ جو انجیل میں نجات کے بارہ میں بیان کیا گیا ہے یعنی حضرت عیسی علیہ السلام کا مصلوب ہوتا اور کفارہ۔اسی تعلیم کو قرآن شریف نے قبول نہیں کیا۔اور نجات کے لئے اس امر کو ضروری نہیں جانتا کہ ایک گناہ گار کا بوجھ کسی بے گناہ پر ڈال دیا جائے؟ له امر نیز فرمایا : - قرآن کوئی لعنتی قربانی پیش نہیں کرتا بلکہ ہرگز جائزہ نہیں رکھتا کہ ایک کا گناہ یا ایک کی لعنت کسی دوسرے پر ڈالی جائے۔چہ جائیکہ کی دوڑ ہا لوگوں کی لعنتیں اکٹھی کر کے ایک پر کے گلے میں ڈال دی جائیں۔قرآن کریم صاحت فرماتا ہے کہ لا تزر وازرة وزر اخرى یعنی ایک کا بوجھ دوسرا نہیں اُٹھائے گا ا سکے دوسری دلیل کفارہ کے رد میں دوسری دلیل یہ ہے کہ کفارہ کی بنیاد میں یہ امر داخل ہے کہ حضرت مسیح حضرت مسیح علیہ السلام انسان نہیں تھے بلکہ خدا کے بیٹے تھے جو بنی نوع انسان کے لئے مصلوب ہوئے۔یہ ایک ایسا امر ہے جس کا کوئی بھی مسیحی انکار نہیں کرتا کہ الومیت مسیح کفارہ کی سب سے بڑی کڑی ہے۔انسائیکلو پیڈیا برٹینیکا میں لکھا ہے :- "The doctrine of deity of Jesus has been valued only because of its necessity on the effect of the atonement۔" ✗ یعنی الوہیت مسیح کے نظریہ کو صرف اس وجہ سے اہمیت دی گئی ہے کہ کفارہ کے اثبات کے لئے اس امر کی ضرورت پڑتی ہے۔✓ ١٠٢ ترتیل کے چشمہ معرفت ۲۱ جلد ۱۳ با سه :- سراجدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب ملتا جلد ۱۳: شود- Encyclopedia Britanica vol۔5 pp۔634