کسر صلیب — Page 232
الوہیت کے دلائل ہیں کیونکہ نرا دعوی تو کسی دانشمند کے نزدیک بھی قابل سماعت نہیں ہے اور یہ بجائے خود ایک دعوئی ہے کہ ان پیش گوئیوں میں مسیح کو خدا بنایا گیا ہے مسیح نے خود کبھی دعوی نہیں کیا تو کسی دوسرے کا خواہ مخواہ ان کو خدا بنا نا مجیب بات ہے" سے پس اس سارے بیان سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ مسیح علیہ السلام کی الوہیت کی دلیل کے طور پر عہد نامہ قدیم کی پیشگوئیوں کو پیش کرنا سراسر زیادتی ہے۔اور اس کی کوئی وجہ جواز موجود نہیں ہے۔بلکہ ان پیش گوئیوں کا یہ ستم مفہوم کہ آنے والا مسیح انسان ہوگا نہ کہ خدا - الوہیت مسیح کی تردید میں واضح دلیل ہے۔بائليسون دليل الوہیت مسیح کے رد میں بائیسویں دلیل یہ ہے کہ عیسائی لوگوں میں بھی مسیح کی الوہیت کے متعلق مکمل اتفاق نہیں پایا جاتا۔ان میں سے بعض حضرت مسیح کو بطور خدا اپنا نجات دہندہ یقین کرتے ہیں۔اور بعض دوسرے ان کو محض ایک انسان اور خدا کا نبی سمجھتے ہیں۔ہمارا استدلال یہ ہے کہ اگر الوہیت مسیح کا عقیدہ مبنی بر حقیقت ہوتا اور اس بارہ میں صحف سابقہ کی پیش گوئیاں حضرت مسیح علیہ السلام کے اپنے بیانات اور معجزات اس قدر واضح قطعی اور یقینی ہوتے تو ہر گنہ عیسائیوں میں یہ اختلاف رائے پیدا نہ ہوتا۔پس یہ اختلاف رائے اس بات کا ثبوت ہے کہ حضرت مسیح کی الوہیت کا مسئلہ کوئی قطعی اور یقینی مسئلہ نہیں ہے۔اور اذا جاء الاحتمال بطل الاستدلال - اذاجاء۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام عیسائیوں کے اس اختلاف کے بارہ میں فرماتے ہیں :- " ایک طرف گھر میں ہی پھوٹ پڑی ہوئی ہو۔ایک صاحب حضرات عیسائیوں میں سے تو حضرت مسیح کو خدا ٹھہراتے ہیں اور دوسرا فرقہ ان کی تکذیب کر رہا ہے یہ ہے حضرت مسیح علیہ السلام کی حیثیت کے بارہ میں جس اختلاف کا اوپر ذکر ہوا ہے اس کا ایک ثبوت مندرجہ ذیل حوالہ بھی ہے۔ایک مشہور سیحی مصنف : Rev۔E۔R۔Hul اپنی کتاب What Catholic church is and what she teaches۔" میں لکھتے ہیں :۔Most protestants believe that divinity of christ is clearly : عفوظات جلد سوم صن ١٣ :- جنگ مقدس من ریحانی خزائن جلد 4 ::