کسر صلیب — Page 233
۲۳۳ taught in the bible; yet the socianians have argued with apparent sincerity that the new testament presents christ merely as an inspired man۔" یہ حوالہ ظاہر کہتا ہے کہ مسیح کی ذات کے بارہ میں عیسائی فرقوں میں شدید اختلاف پایا جاتا ہے۔یہی شدید اختلاف ہمارے استدلال کی بنیاد ہے کہ اگر واقعی حضرت مسیح خدا ہوتے اور ان کی خدائی کے ثبوت غیر مہم اور یقینی ہوتے تو عیسائی فرقوں میں یہ شدید اختلاف رونما نہ ہوتا۔پس ثابت ہوا کہ مسیح کی الوہیت کی کوئی مضبوط بنیاد نہیں ہے۔تئیسوس دليلك حضرت مسیح علیہ السلام کی الوہیت کے رد میں ایک اور دلیل یہ ہے کہ انسانی عقل کے نزدیک ان کا بطور خدا درنیا میں آنا ایک بے معنی اور غیر مفید کام ہے۔پھر اس کی خدا کی حکمت اور علم پر بھی ند پڑتی ہے۔کیونکہ انسانوں کی اصلاح اور ارتقاء کے لئے وہ نمونہ پیش کرنا چاہیئے جس کی انسان پیروی کر سکیں۔اور اس کے روحانی مقام تک ترقی کر سکتے ہوں۔انسان کا خدا بننا ناممکن ہے اس لئے خدا کے آنے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس دلیل کو بھی بیان فرمایا ہے۔اور الوہیت مسیح کا ر ڈ فرمایا ہے۔آپ فرماتے ہیں :- " انسان اپنی انسانی حدود اور ہیئت کے اندر ترقی مدارج کر سکتا ہے۔نہ یہ کہ وہ خدا بھی بن سکتا ہے۔جب انسان خدا بن ہی نہیں سکتا تو پھر ایسے نمونے کی کیا ضرورت جب سے انسان فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔انسان کے واسطے ایک انسانی نمونے کی ضرورت ہے جو کہ رسولوں کے رنگ میں ہمیشہ خدا کی طرف سے دنیا میں آیا کرتے ہیں۔نہ کہ خدائی نمونہ کی جس کی پیروی انسانی مقدرت سے بھی باہر اور بالا تر ہے۔ہم حیران ہیں کہ کیا خدا کا منشاء انسانوں کو خدا بنانے کا تھا کہ ان کے واسطے خدائی کا نمونہ بھیجا تھا یا ہے پھر اسی ضمن میں مزید وضاحت کی غرض سے فرمایا :- 114 10 ملفوظات جلد دہم م ۲۱ : :