کسر صلیب

by Other Authors

Page 215 of 443

کسر صلیب — Page 215

۲۱۵ 150 پندرھویں دلیل الوہیت مسیح کی تردید میں پندرھویں دلیل یہ ہے کہ جو تعلیم حضرت مسیح علیہ السلام نے دی ہے وہ خدا کی تعلیم اور خدا کے مقر کردہ اصولوں سے ٹکراتی ہے اگر حضرت مسیح واقعی خدا ہوتے تو ہر گز مکن نہ تھا کہ خدا کی اور ان کی تعلیموں میں ٹکراؤ یا تضاد نظر آتا۔ایک مثال سے اس دلیل کی وضاحت ہو جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں یہ اصول مقریہ فرمایا ہے کہ کبھی وہ نرمی کا سلوک کرتا ہے اور کبھی گرفت کرتا ہے کبھی ایسا نہیں ہوا کہ وہ نرمی ہی نرمی کرتا چلا جائے اور نہ کبھی ایسا دیکھنے یا سنتے ہیں آیا ہے کہ خدا کسی قوم کو مسلسل عذاب میں مبتلا رکھے۔خدا تعالیٰ کے میرا خذہ میں نرمی اور سختی دونوں مناسب طور پر نظر آتی ہیں۔اسکی مقابل پر حضرت مسیح علیہ السلام نے جو تعلیم پیش کی ہے اس میں سرا سر غفو اور معافی اور نرمی پر زور دیا گیا ہے۔سختی اور مقابلہ روکا گیا ہے۔لکھا ہے ہے :- س میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ شریر کا مقابلہ نہ کرنا بلکہ جو کوئی تیر سے داہنے گال پر طمانچہ مار سے دوسرا بھی اس کی طرف پھیر دے اور اگر کوئی تجھ پرابش کر کے تیرا اگر تا لینا چاہے تو چہ بھی اسے سے لینے دے اور جو کوئی تجھے ایک کوس بیگار میں سے جائے اس کے ساتھ دو کوس چلا جاتا ہے حضرت مسیح علیہ اسلام کی اس تعلیم سے واضح ہوتا ہے کہ ان کی تعلیم خدائی منشاء اور خدائی طریق کے مطابق نہیں ہے پس حضرت مسیح علیہ السلام کی انجیل تعلیم اور خدا تعالیٰ کے طریق میں یہ تضاد ظاہر کرتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام خدا نہیں ہے اگر وہ خدا ہوتے تو ان دونوں تعلیمات میں اختلاف اور تضاد ہرگز نظر نہ آتا۔حضرت علی علیہ السلام کے عضوکی تعلیم تو واضح ہی ہے اسکی مقابل پر خداتعالی کا جو طریق ہے اسکے بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :- خدا تعالیٰ کے فعل میں ہم دیکھتے ہیں کہ ہمیشہ نرمی اور درگزر نہیں بلکہ وہ مجرموں کو طرح طرح کے عذابوں سے سزا یاب بھی کرتا ہے۔ایسے عذابوں کا پہلی کتابوں میں بھی ذکر ہے۔۔۔۔ہم نے کبھی مشاہدہ نہیں کیا کہ خدا نے اپنی مخلوق کے ساتھ ہمیشہ علم اور در گذر کا معاملہ کیا ہو اور کوئی عذاب نہ آیا ہو" سے : حتی اسم : ۴۱۰۳۹ : چشمه سیحی مشا روحانی خزائن جلد ۲۰ : J