کسر صلیب — Page 216
۲۱۶ پس اس دلیل سے ثابت ہو جاتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام ہرگز خدا یا خدا کے بیٹے نہ تھے۔سولہویں دلیل عیسائی حضرات حضرت علی علیہ السلام کی خدائی ثابت کرنے کے لئے عام طور پر یہ کہا کرتے ہیں کہ ان کے بارہ میں کتاب مقدس میں بارہ بارہ بیٹے (این) کا لفظ آیا ہے لیکن اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ الفاظ حضرت مسیح علیہ السلام کی خدائی نہیں بلکہ انسانیت کا بہت بڑا ثبوت ہیں۔پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ سب الفاظ بائبل سے پیش کئے جاتے ہیں جس کا الہامی مقام اور حفاظت انتہائی مشکوک امر ہیں۔یہ ایسی حقیقت ہے جس کو اب تو محقق عیسائیوں نے بھی تسلیم کر لیا ہے۔پس اس بارہ میں صرف بائبل کی روایت قطعی حجت نہیں ہو سکتی۔دوسری بات یہ ہے کہ اگر ابن یا بیٹے کے لفظ سے ہی الوہیت کا استدلال کرنا ہے تو پھر ان تمام لوگوں کو بھی خدا ماننا چاہیئے جن کے بارہ میں یہ لفظ بائبل میں آیا ہے لیکن عیسائی ایسا نہیں کرتے ظاہر ہے کہ پھر سیح علیہ السلام کے بارہ میں بھی ابن کے لفظ سے الوہیت کا استدلال نہیں ہو سکتا۔آخر کیا وجہ ہے کہ جب مسیح کے بارہ میں یہ لفظ آئے تو الوہیت کی دلیل بن جائے کسی اور کے بارہ میں بیٹے اور خواہ پوٹھے بیٹے کا لفظ بھی آئے تو وہ انسان کا انسان ہی رہے یہ ہرگز انصاف نہیں۔بائبل میں بہت سے لوگوں کے بارہ میں ابن کا لفظ آیا ہے۔مثلاً خداوند نے یوں فرمایا ہے کہ اسرائیل میرا بیٹا بلکہ میرا پلوٹھا ہے ؟ لے مبارک وہ جو صلح کراتے ہیں کیونکہ وہ خدا کے بیٹے کہلائیں گے " سے ہم خدا کے فرزند ہیں " سے " تم زندہ خُدا کے فرزند ہو“ کے الغرض اس قسم کے متعدد حوالے ملتے ہیں۔پس کیا وجہ ہے کہ ان سب لوگوں کو خدا نہیں قرار دیا جاتا جبکہ ان کے حق میں بھی وہی الفاظ آئے ہیں جو حضرت مسیح علیہ السلام کے حق میں آئے ہیں۔یہ ایک ایسا قوی اعتراض ہے جس کا کوئی تسلی بخش جواب عیسائی حضرات نہیں دے سکتے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :۔صرف ابن کا لفظ ان کی (حضرت مسیح کی ناقل) خدائی کو ثابت نہیں کر سکتا۔کیونکہ ا ہے: خروج کے سوا متی : : : - رومیوں سے یہ ہوسیع : : -۱- -:-:-: