کسر صلیب — Page 195
۱۹۵ کے ہاتھوں سے ماریں کھاتا رہا زنداں میں داخل کیا گیا کوڑے لگے صلیب پر کھینچا گیا۔اگر وہ قادر ہوتا تو اتنی ذلیکی با وجود خدا ہونے کے ہر گنہ نہ اٹھاتا اور نہ اگر وہ قادر ہوتا تو اس کے لئے کیا ضرورت تھی کہ اپنے بندوں کو نجات دینے کے لئے یہ تجویز سوچتا کہ آپ کر جائے اور اس طریق سے بند سے رہائی پاویں۔جو شخص خدا ہو کہ تین دن تک مرا ر ہا اسکی قدرت کا نام لینا ہی قابل شرم بات ہے اور یہ عجیب بات ہے کہ خدا تو تین دن تک مرارہا لیکن اس کے بند سے تین دن تک بغیر خدا کے ہی جیتے رہے۔لہ (۱۵) " متفق علیہ عقیدہ دنیا میں یہی ہے کہ خدا موت اور تو تداور بھوک اور پیاس اور نادانی اور عجز یعنی عدم قدرت اور تختم اور تحیر سے پاک ہے مگر یسوع ان میں سے کسی بات سے بھی پاک نہ تھا۔اگر یسوع میں خدا کی روح تھی تو وہ کیوں کہتا ہے کہ مجھے قیامت ا کی خبر نہیں"۔اور اگر اس کی روح میں جو بقول عیسائیاں اقنوم ثانی سے عینیت رکھتی تھی۔خدائی پاکیزگی تھی تو وہ کیوں کہتا ہے کہ " مجھے نیک نہ کہو"۔اور اگر اس میں قدرت " تھی تو کیوں اس کی تمام رات کی دعا قبول نہ ہوئی۔اور کیوں اس کا اس نامرادی کے کلمہ پر کی خاتمہ ہوا۔کہ اس نے ایلی ایلی لما سبقتنی" کہتے ہوئے جان دی ۲ (19)۔" پھر کہتے ہیں کہ اس وقت ان کی روح انسانی تھی۔نہ روح الوہیت۔ہم پھر پوچھتے ہیں کہ بھلا ان کی روح اگر انسانی تھی تو اس وقت ان کی الوہیت کی روح کہاں تھی ؟ کیا وہ آرام کرتی تھی اور خواب غفلت میں غرق نوم تھی ؟ خود بے چارے نے بڑے درد اور رقت کے ساتھ چلا چلا کہ دعا کی۔حواریوں سے دعا کرائی مگر سب بے فائدہ تھیں۔وہاں ایک بھی نہ سنی گئی۔آخر کا ر خدا صاحب یہودیوں کے ہاتھ سے ملک عدم کو پہنچے۔کیسے قابل شرم اور افسوس ہیں ایسے خیالات سے 11 (14) علم روح کی صفات میں سے ہے نہ جسم کی صفات میں سے۔اگر ان میں اللہ تعالے کی ه چشمه سیحی ، روحانی خزائن جلد ۲۰ سه : کتاب البر به من روحانی خسته ائن جلد ۱۳ : - سه : ملفوظات جلد پنجم بست