کسر صلیب — Page 194
۱۹۴ (H) مسیح جس کو خدا بنایا جاتا ہے اس کی تو کچھ پوچھو ہی نہیں۔ساری عمر پکڑ دھکڑ میں گذری اور ابن آدم کو سر دھرنے کی جگہ ہی نہ ملی۔اخلاق کا کوئی کامل نمونہ ہی موجود نہیں۔تعلیم ایسی ادھوری اور غیر مستعفی کہ اس پر عمل کر کے انسان بہت نیچے جا گرتا ہے۔وہ کسی دوسرے کو اقتدار و عزت کیا دے سکتا ہے جو اپنی بے بسی کا خود شاکی ہے۔اوروں کی کیا نشن سکتا ہے۔جس کی اپنی ساری رات کی گریہ وزاری اکارت گئی اور چلا چلا کر امیلی ایلی لما سبقتانی بھی کہا مگر شنوائی ہی نہ ہوئی اور پھر اس پر طرہ یہ کہ آخر یہودیوں نے پکڑ کر صلیب پر لٹکا دیا اور اپنے اعتقاد کے موافق ملعون قرالہ دیا " نے و مسیح کی زندگی کے حالات پڑھو تو صاف معلوم ہوگا کہ وہ خدا نہیں ہے اس کو اپنی زندگی میں کسی قدر کو نہیں اور کلفتیں اُٹھانی پڑیں اور دعما کی عدم قبولیت کا کیسا بڑا نمونہ اس کی زندگی میں دکھایا گیا تھا۔خصوصا باغ والی دعا جو ایسے اضطراب کی دعا ہے وہ بھی قبول نہ ہوئی اور وہ پیالہ ٹل نہ سکا یا ہے (۱۳) عیسائی مذہب توحید سے تہی دست اور محروم ہے۔بلکہ ان لوگوں نے سچے خدا سے منہ پھیر کہ ایک نیا خدا اپنے لئے بنایا ہے جو ایک اسرائیلی عورت کا بیٹا ہے مگر کیا یہ نیا خدا ان کا قادر ہے جیسا کہ اصلی خدا قادر ہے۔اس بات کے فیصلہ کے لئے خود اسکی سرگزشت گواہ ہے کیونکہ اگر وہ قادر ہوتا تو یہودیوں کے ہاتھ سے ماریں نہ کھاتا۔رومی سلطنت کی حوالات میں نہ دیا جاتا۔اور صلیب پر کھینچانہ جانا اور جب یہودیوں نے کہا تھا کہ صلیب پر سے خود بخود اترا تو ہم ابھی ایمان سے آئیں گے اسی وقت اتر آتا لیکن اس نے کسی موقع پر اپنی قدرت نہیں دکھلائی " سے (۱۴) " حضرات پادری صاحبان بھی اپنے خدا کو قادر نہیں سمجھتے کیونکہ ان کا خدا اپنے مخالفوں ہے۔ملفوظات جلد اول ص ۳۳ : : نسیم دعوت حث روحانی خزائن جلد ۱۷ کے ملفوظات جلد ششم ص