کسر صلیب — Page 188
AA علاوہ انہیں اس قسم کی بشریت کی سب باتیں ان کے ساتھ تھیں۔4 - خدا کی ایک صفت یہ بھی ہے کہ وہ بے مثل و مانند ہے۔کوئی اور ہستی اس کی ذات و صفات ہیں شریک نہیں ہے لیکن حضرت مسیح علیہ السلام نے ساری زندگی عام انسانوں کی طرح بسر کی۔ان کو بھی تکالیف اور مشکلات پیش آتی رہیں وہ خود کہتے ہیں :- لو مڑیوں کے بھٹ ہوتے ہیں اور ہوا کے پرندوں کے گھونسلے مگر ابن آدم کے لئے سر دھرنے کی بھی جگہ نہیں" اے پس واضح ہے کہ حضرت مسیح کو عام انسانوں کے مقابلہ پر کوئی امتیازی شان حاصل نہ تھی۔- خدا کی ایک صفت یہ بھی ہے کہ خدا ہی سب بزرگیوں کا مالک اور مبدا ہے۔ہر نیکی اور ہر خوبی اس کو سزاوار ہے۔لیکن حضرت مسیح علیہ السلام اپنے بارہ میں اس صفت کا صاف انکار کر تے ہیں۔جب ان کو کسی نے نیک کہا تو انجیل میں لکھا ہے کہ :- یسوع نے اسے کہا تو مجھے کیوں نیک کہتا ہے ؟ کوئی نیک نہیں مگر ایک یعنی خدا " کے۔خدا کی ایک شان یہ ہے کہ وہ جو چاہتا ہے کہ لیتا ہے کوئی اس کے ارادہ کی راہ میں حائل نہیں ہو سکتا۔قرآن مجید میں بھی آیا ہے۔واللہ غالب علی امرہ لیکن حضرت مسیح علیہ السلام نے بار بار اپنے بجز اور کمزوری کا اقرار کیا ہے۔ان کے متعلق لکھا ہے :۔" پھر تھوڑا آگے بڑھا اور منہ کے بل گیہ کہ یہ دعا مانگی۔اسے میرے باپ ! اگر ہوسکے تو یہ پیالہ مجھ سے مل جائے ا سے ا ۹ - خدا تعالی کی ایک صفت یہ ہے کہ وہ کبھی مرا نہیں کرتا حی لا یموت خدا کی صفت ہے۔انجیل میں لکھا ہے :- " بقاء صرف اسی کو ہے " سے لیکن عیسائی یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ مسیح مر گیا تھا۔لکھا ہے :- " جب ہم کمزور ہی تھے تو عین وقت پر مسیح بے دینوں کی خاطر مدا " شے ۱۰۔اس کے نجات پانے کا کیا سوال۔اس کی شان تو یہ ہے کہ وہ انسانوں کو نجات دیتا اور ہلاکتوں سے بچاتا ہے۔حضرت مسیح علیہ السلام کا یہ حال ہے کہ وہ دوسروں کو مصیبتوں سے کیا چھڑاتے لوقا -::- رومیوں : - مرقس : - متی ۲ ۱۲- تمطاؤس 7 وشه