کسر صلیب

by Other Authors

Page 189 of 443

کسر صلیب — Page 189

189 وہ تو خود ہلاکتوں میں پڑے رہے اور نجات کے طالب رہے۔انجیل میں وارد ہے کہ حضرت مسیح نے کہا :- " اب میری جان گھبراتی ہے پس میں کیا کہوں ؟ اسے باپ مجھے اس گھڑی سے بچا لے اللہ تعالیٰ کی صفات تو بہت زیادہ ہیں لیکن میں نے بطور نمونہ مندرجہ بالا ۱۰ صفات انتخاب کی ہیں ان دس صفات پر اور ان کے مقابل پر حضرت مسیح علیہ السلام کی حالت پر غور کرنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام میں ان صفات میں سے کوئی ایک صفت بھی نہیں پائی جاتی۔پس جب حضرت مسیح علیہ السلام کا وجود خدائی صفات اپنے اندر نہیں رکھتا تو ان کو بلا وجہ تحکم کے طور پر خدا بنا ناصریح ظلم اور زیادتی نہیں تو اور کیا ہے ؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس دلیل کو بار بار اپنی کتابوں میں بیان فرمایا ہے کہ مسیح علیہ السلام میں خدائی کی کوئی صفت بھی تو پائی نہیں جاتی۔ایک جگہ آپ فرماتے ہیں : - " مسیح کے حالات کو پڑھو تو صاف معلوم ہوگا کہ یہ شخص کبھی اس قابل نہیں ہو سکتا کہ نبی بھی ہو چہ جائیکہ خدایا خدا کا بیٹا " سے اس ضمن میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عبارات میں مختلف صفات کا ذکر اس طرح آپس میں ملا ہوا ہے کہ ہر صفت کا الگ الگ جائیزہ لینا بہت مشکل ہے اس لیئے ہیں اس دلیل کے ضمن میں حضور علیہ السلام کے سب حوالہ جات اکٹھے ہی پیش کر دیتا ہوں حضور فرماتے ہیں:۔(۱) ایک عاجز انسان جو اپنے نفس کی مدد بھی نہ کر سکا اس کو خدا بھرا یا گیا اور اسی کو خالق السموات والارض سمجھا گیا۔دنیا کی بادشاہت جو آج ہے اور کل نابود ہو سکتی ہے اس کے ساتھ ذلت جمع نہیں ہو سکتی پھر خدا کی حقیقی بادشاہی کے ساتھ اتنی ذلتیں کیوں جمع ہو گئیں کہ وہ قید میں ڈالا گیا۔اس کو کوڑے لگے اور اس کے منہ پر تھوکا گیا اور آخر بقول عیسائیوں کے ایک لعنتی موت اس کے حصّہ میں آئی۔جب کسے بغیر وہ اپنے بندوں کو نجات نہیں دے سکتا تھا۔کیا ایسے کمزور خُدا پر کچھ بھروسہ ہو سکتا ہے اور کیا خُدا ایک فانی انسان کی طرح مرجاتا ہے پھر صرف جان نہیں بلکہ اس کی عصمت اور اس کی ماں کی عصمت پر بھی یہودیوں نے ناپاک تہمتیں لگائیں اور کچھ بھی اس خدا سے نہ ہو سکا کہ نہ بر دست طاقتیں دکھلا :- : سے: ملفوظات جلد سوم و۔-: یوحنا :