کسر صلیب — Page 187
IAL۔- پھر اللّہ تعالیٰ کی ایک صفت یہ ہے کہ وہ علم غیب رکھتا ہے۔اور کوئی چیز اس کے احاطہ علم سے کی باہر نہیں ہوتی۔لکھا ہے :- و تو ہاں تو ہی اکیلا سار سے بنی آدم کے دلوں کو جانتا ہے ا سکے لیکن حضرت مسیح علیہ السلام کی یہ صورت نہ تھی۔انجیل میں وارد ہے :- لیکن اس دن یا اسی گھڑی کی بابت کوئی نہیں جانتا نہ آسمان کے فرشتے نہ بیٹیا مگر باپ۔ملے " جب صبح کو پھر شہر میں جاتا تھا تو اسے بھوک لگی اور انجیر کا ایک درخت راہ کے کنار سے دیکھ کر اس کے پاس گیا اور پتوں کے سوا اس میں کچھ نہ پا کر اسے کہا کہ آئندہ تجھ میں کبھی پھل نہ لگے اور انجیر کا درخت اسی دم سوکھ گیا " سے اس حوالہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ مسیح کو بھوک بھی لگا کرتی تھی جوشان الوہیت کے سراسر منافی ہے۔- خدا کی ایک صفت یہ ہے کہ وہ مخلوقات سے بالا تر ہے اور کوئی اور ہستی اس قابل نہیں ہوسکتی کہ خدا کی آزمائش کرے۔یعقوب رسول کا قول ہے :- نہ تو خدا بدی سے آزمایا جا سکتا ہے اور نہ وہ کسی کو آزماتا ہے یا شے لیکن حضرت مسیح علیہ السلام کے بارہ میں انجیل کا بیان ہے کہ :۔اور چالیس دن تک روح کی ہدایت سے بیابان میں پھرتا رہا اور ابلیس اُسے آزما تا رہا۔۔۔۔۔جب ابلیس تمام آن مائشیں کر چکا تو کچھ عرصہ کے لئے اس سے جُدا ہوا" شد ۵ - خدا کی ایک صفت یہ بھی ہے کہ وہ سوتا نہیں ہے۔قرآن مجید نے فرمایا ہے : لا تَأخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْم ** اثرہ سر نہ بور میں آتا ہے :- " وہ جو تیرا حافظ ہے نہ اُونگھے گا۔دیکھ وہ جو اسرائیل کا محافظ ہے ہر گز نہ ویکھے ہرگزنہ گا اورہ نہ سوئے گا " نے لیکن حضرت مسیح علیہ السلام کے بارہ میں ثابت ہے کہ وہ نہ صرف یہ کہ سویا کرتے تھے بلکہ بڑی گہری نیند سوتے تھے کہا ہے kt سے ه: سلاطین : : - مرقس : ۱۹ - متی : قول نمبر : شو: لوقا کہ : :- زبور - مرقس : شه: شما -