کسر صلیب — Page 157
۱۵۷ رہ جاتا ہے۔جب تثلیث مسیح کی تعلیم نہیں بلکہ بعد میں آنے والے کسی اور شخص کے فکر کات ہکار ہے تو اس کو اصل مسیحی عقیدہ کے طور تسلیم کر نا یا دوسروں کے سامنے بیان کرنا نادانی نہیں تو اور کیا ہے ؟ عیسائیوں کے لئے تثلیث کے عقیدہ کے کسی حد تک قابل قبول ہونے کی صرف ایک ہی معمولی سی صورت یہ ہو سکتی تھی کہ پولوس رسول حضرت مسیح علیہ السلام کا کوئی معتبر حواری یا موعود جانشین ہوتا۔تب مسیحی یہ استدلال کر سکتے تھے کہ پولوس کا یہ عقیده ایجاد کہ وہ نہیں بلکہ سیمی تعلیمات کا ہی نتیجہ اور اپنی تعلیمات کی ترجمانی ہے۔لیکن یہاں معاملہ یہ ہے کہ پولوس کا اپنا وجود۔نهایت مشتبہ ہے۔اس بارہ میں سیمی مصنفین نے اتنا کچھ لکھا ہے کہ اس بارہ میں کسی قسم کا اشتباہ باقی نہیں رہتا کہ پونوس ہرگز ہرگزنہ قابل اعتماد نہیں۔پھر لوپوس کے حالات نہ ندگی بتاتے ہیں کہ وہ پہلے یہودی تھا میسج کا سخت دشمن تھا۔لیکن بعد میں کسی ذاتی مقصد کے حصول کے لئے عیسائی بنا اور ان مختلف عقاید کو ایجاد کیا۔ظاہر ہے کہ اس قسم کا آدمی عیسائیت کا صحیح اور قابل اعتبار ترجمان نہیں ہو سکتا۔پھر پولوس کے قابل اعتماد نہ ہونے کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ حضرت مسیح نے اس کی بابت کوئی وعدہ یا پیش گوئی نہیں فرمائی۔پھر لوپوس کے حالات بتاتے ہیں کہ وہ نہ مانے کی ہوا کے ساتھ بدل جانے والا تھا۔پولوس کی مصلحت بینی کا اندانہ اس کے اپنے اس قول سے ہو سکتا ہے وہ کہتا ہے :- دریں پہر دیوں کے لئے یہودی بنا تا کہ یہودیوں کو کھینچ لاؤں۔جو لوگ شریعت کے ماتحت ہیں ان کے لئے میں شریعیت کے ماتحت ہوا تا کہ شریعیت کے ماتحتوں کو کھینچے لاؤں۔بے شرع لوگوں کے لئے بے شرع بنا، تاکہ بے شرع لوگوں کو کھینچ لاؤں۔۔۔۔۔۔کمزوروں کے لئے کنور بنا۔تاکہ کمزوروں کو کھینچ لائی۔میں سب آدمیوں کے لئے سب کچھ بنا ہوا ہوں تا کہ کسی طرح سے بعض کو بچاؤں " سے پولوس کے اس قول سے واضح ہوتا ہے کہ وہ تو گویا ایک "مریخ باد نما ہے جو ہوا کے ہر جھونکے کے ساتھ اپنا رخ بدل لیتا ہے۔کیا ایسے شخص کے اقوال اور تشریحات معتبر ہو سکتی ہیں۔الغرض پولوس کی شخصیت اتنی مشقیہ اور نا قابل اعتماد ہے کہ اس کی روایت کو ہرگزہ مذہبی بنیادی کرنتھیوں :