کسر صلیب

by Other Authors

Page 9 of 443

کسر صلیب — Page 9

- علامہ عبدالرحمن بن خلدون نے جومشہور مورخ اسلام اور ایک بلند پایہ عالم گزرے ہیں۔علم کلام کی یہ تعریف کی ہے :- خلاصہ هو علم يتضمن الحجاج عن العقايد الايمانية بالادلة العقلية والرد على المبتدعة المنحرفين في الاعتقادات من مذاهب السلف واهل السنة " ل یعنی علم کلام وہ علم ہے جس میں عقاید ایمانیہ کے متعلق عقلی دلائل دئے جاتے ہیں اور اعتقادات کے بارہ میں گذشتہ لوگوں کے مذاہب اور اہل سنت کے طریق سے انحراف کرنے والے بدعتی لوگوں کا رد کیا جاتا ہے۔اگران دستش تعریفات کا جائزہ لیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ عقائد دینیہ کی معرفت اور ان کے اثبات کی متک تو سب متفق ہیں۔لیکن تفصیلات کے ضمن میں دو بڑے اختلافات ہیں :- -1۔۔بعض نے نقلی دلائل کو علم کلام کی تعریف میں شامل نہیں کیا جیسے علامہ ابن خلدون - ان لوگوں کا کہنا ہے کہ غیروں کے سامنے نقلی دلائل پیش کرنا ایک لاطائل امر ہے۔جہاں تک دوسروں کے حق میں مفید ہونے کا تعلق ہے یہ بات درست ہے۔لیکن پھر بھی نقلی دلائل کو علم کلام سے خارج نہیں کیا جا سکتا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اپنے عقاید کی معرفت تامہ اور اطمینان قلب اور علی وجہ البصیرت ایقان حاصل کرنے کے لئے نقلی دلائل از بس ضروری ہیں۔نیزا اپنے ہم مذہب اور ہم عقیدہ لوگوں کے درمیان تو نقلی دلائل ہی بحث کا فیصلہ کرتے ہیں۔قرآن مجید کے نقلی دلائل چونکہ دعوی و دلیل عقلی پر مشتمل ہوتے ہیں اسلئے ان کے غیر سیلوں پر حجت ہونے میں کوئی اشتباہ نہیں۔ا۔بعض نے دیگر مذاہب کے اعتراضات کے بعد اور جواب کو علم کلام کی تعریف سے خارج کیا ہے جیسے شرح فقہ اکبر اور شرح عقاید میں ہے۔ان لوگوں کا کہنا ہے کہ الف - اعتراضات ایک گند ہیں۔اس لئے ان کو چھا رہنا چاہیئے۔وہ ان اعتراما کی مثال ایک پھوڑے سے دیتے ہیں جس میں نشتر چلانے سے بدبو پیدا ہوتی ہے۔: مقدمه ابن خلدون ۳۶۳ ابرینی