کسر صلیب — Page 8
4 کی تعریف کے ضمن میں لکھا ہے کہ :- و علم کلام در حقیقت اس کا نام ہے کہ مذہب اسلام کی نسبت یہ ثابت کیا جائے کہ وہ منزل من اللہ ہے۔مذہب دو چیزوں سے مرکب ہے۔عقاید و احکام سے علم کلام حقیقت میں جس چیز کا نام ہے وہ عقائد کا اثبات ہے " سے ا علم کلام دو چیزوں کے مجموعہ کا نام ہے۔(1) اسلامی عقائد کا اثبات - دان) فلسفہ ملاحدہ اور دیگر مذاہب کا رویہ دا دولت عباسیہ کا ذکر کر تے ہوئے علامہ موصوف نے لکھا ہے کہ اس وقت عام آزادی کی وجہ سے پارسی - عیسائی۔یہودی اور زنادقہ نے اسلام پر سخت حملے کئے اور سخت نکتہ چینیاں کیں۔چنانچہ اس وقت " علمائے اسلام نے نہایت شوق اور محبت سے فلسفہ سیکھا اور جو ہتھیار مخالفین نے اسلام کے مقابلہ میں استعمال کئے تھے ان ہی سے ان کے وار رو گے۔ان ہی معرکوں کے کارنامے ہیں جو آج علم کلام کے نام سے شہور ہیں۔علامہ شبلی نعمانی کی ان ساری تعریفات پر یکجائی نظر سے یہ اندازہ کر نا مشکل نہیں کہ ان کے نبتہ دیگ معلم کلام سے مراد ایسا علم ہے جس میں مذہب کے عقائد و احکام کے اثبات پر اور مخالفین کے اعتراضات کے رد میں دلائل بیان کئے گئے ہوں۔علامہ موصوف نے دلائل یہ کے ضمن میں کوئی صراحت نہیں کی کہ یہ کس قسم کے ہوں۔نقلی یا عقلی یا ہر دو قسم کے۔یہ - جناب سید سلیمان ندوی نے علامہ شبلی نعمانی کی کتاب " الکلام " پر ایک دیباچہ لکھا ہے۔جس میں وہ لکھتے ہیں :۔علم کلام اس فن کا نام ہے جس میں مخالفین مذہب کے اعتراضات اور شکوک و شبہات کا جواب دیا جاتا اور عقاید حقہ کو عقلی و نقلی دلیلوں سے ثابت کیا جاتا ہے :- علم الکلام از شبلی طله شه : علم الکلام از شبلی ما به له : علم الکلام از شیلی ۱۳۹۵ گے :- علم الکلام از شیلی صب ہے :- دیباچه بعنوان تنبیہ کتاب الکلام از شبلی نعمانی صلابة