کسر صلیب — Page 132
مسیح پاک علیہ السلام کی اس پہلی دلیل کا خلاصہ یہ ہے کہ تینوں خدائی کا مستقل وجود ہونا اور پھر ان سب کا ایک خدا قرار دینا عقل کے خلاف ہے۔اس وجہ سے یہ عقیدہ باطل ہے۔دوشری دلیل تثلیث کے رد میں میسج پاک علیہ السلام نے دوسری دلیل یہ بیان فرمائی ہے کہ شکلیت انسانی فطرت اور باطنی شریعت کے سراسر خلاف ہے۔مذہب وہی سچا ہو سکتا ہے جسے کسی عقاید اور تعلیمات فطرت انسانی کے عین مطابق ہوں لیکن اگر کوئی مذہب ایسا ہو کہ اس کے عقاید یا عبادات وغیرہ انسانی فطرت سے متصادم ہوں تو ہم ان تعلیمات کو منجانب اللہ نہیں سمجھ سکتے۔تثلیث کے ابطال کے لئے بھی حضور نے اس امر کو پیش فرمایا ہے کہ تثلیث یعنی تین خداؤں کا عقیدہ انسان کی فطرت کے خلاف ہے۔ہر شخص کا دل اور ضمیر اور اس کی عقل سلیم اس بات پر زندہ گواہ کے طور پر موجود ہے۔پھر مزید یہ کہ عیسائیوں کو بھی اس امر کا اعتراف ہے۔چنانچہ تثلیث کے رد میں حضور انس دلیل کو ان الفاظ میں بیان فرماتے ہیں :۔دوسری دلیل اس کے ابطال پر یہ ہے کہ باطنی شریعت میں اس کے لئے کوئی نمونہ نہیں ہے۔باطنی شریعت بجائے خود تو حید چاہتی ہے۔پادری فنڈر صاحب نے اپنی کتابوں میں اعتراف کر لیا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی ایسے جزیرہ میں رہتا ہو جہاں تثلیث نہیں پہنچی اس سے تو حیدری کا مطالبہ ہوگا نہ کہ تثلیث کا۔پس اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ باطنی شریعت تو حید کو چاہتی ہے نہ تثلیث کو۔کیونکہ تثلیث اگر فطرت میں ہوتی تو سوالی اس کا ہونا چاہیئے تھا یہ ہے تیسری دلیل تثلیث کے رد میں تعمیری دلیل حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ بیان فرمائی ہے کہ اس کائنات کی طرز پیدائش اور اشیاء کی ظاہر شکل و صورت اس بات کو غلط ثابت کرتی ہے کہ تثلیث درست اور برحق ہے۔جس طرح حضور نے توحید کے حق میں ایک دلیل یہ بیان فرمائی تھی کہ وضع عالم میں کردویت کا موجود ہونا توحید کی دلیل ہے۔اسی طرح یہ امر اس بات کی بھی دلیل ہے کہ شکیث کا عقیدہ باطل ١٠-٠٦ ه : - ملفوظات جلد سوم مشت ۱۰۲ +