کسر صلیب — Page 133
۱۳۳ اور غلط عقیدہ ہے۔وجہ یہ ہے کہ اگر تثلیث ہی بچی ہوتی تو کائنات کو پیدا کر نے والے تین خدا دنیا کی اشیاء کی ایسی صورت بنا نے جو تثلیث کی عکاسی کرتی۔مسیح پاک علیہ السلام نے اس دلیل کو ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے :- در اگر خدا معاذ اللہ تین ہوتے جیسا کہ عیسائی کہتے ہیں تو چاہیے تھا کہ پانی ، آگ کے شعلے اور زمین آسمان کے اجرام سب کے سب سہ گوشہ ہوتے تاکہ تثلیث پر گواہی ہوتی۔۔۔اب ایسی کھلی شہادت کے ہوتے پھر میں نہیں سمجھتا سکتا کہ تثلیث کا عقیدہ کیوں پیش کر دیا جاتا ہے" لے اسی ضمن میں فرمایا : انجیلی تشکیت کا نقش نہ دل میں ہے نہ قانون قدرت اس کا مؤید ہے ا س پھر حضور فرماتے ہیں :- " تیسری دلیل اس کے ابطال پر یہ ہے کہ جس قدر عناصر خدا تعالیٰ نے بنائے ہیں وہ سب کر دی ہیں۔پانی کا قطرہ دیکھو اجرام سماوی کو دیکھو ، زمین کو دیکھو یہ اس لئے کہ کہ ویت میں ایک وحدت ہوتی ہے۔پس اگر خدا میں تثلیث تھی تو چاہیے تھا کہ مثلث نما اشیاء ہوتیں " سے اور چونکہ وضع عالم میں کرویت ایک محسوس و مشہور امر ہے۔اس وجہ سے تثلیث کا عقیدہ باطل ہے۔چوتھی دلیل تثلیث کے ابطال کے لئے چوتھی دلیل جس کو سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بڑے نور کے ساتھ بار بارہ پیش فرمایا یہ ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام توریت کے پابند تھے جو یہود کی کتاب شریعیت ہے اور اس میں تثلیث کا کہیں ذکر نہیں بلکہ صاف توحید کا بیان ہے۔حضرت سیح علیہ السلام کے پابند تو ریت ہونے پر ان کا یہ قول شاہد ہے کہ :- یہ نہ مجھو کہ میں توریت یا نبیوں کی کتابوں کو منسوخ کرنے آیا ہوں منسوخ کرنے نہیں : ملفوظات جلد اول ۳۲-۳۳۰ سه : ملفوظات جلد دوم و: ملفوظات جلد سوم ما : صده