کسر صلیب — Page 131
۱۳۱ "عیسائی۔۔۔۔۔صریح تو حید کے برخلاف عقیدہ رکھتے ہیں۔یعنی وہ تین خدا مانتے ہیں۔یعنی باپ، بیٹا روح القدس اور یہ جواب ان کا سراسر فضول ہے کہ ہم تمین کو ایک جانتے ہیں۔ایسے بیہودہ جواب کو کوئی عاقل تسلیم نہیں کر سکتا۔جبکہ یہ تینوں خدا مستقل طور پر علیحدہ علیحدہ وجود رکھتے ہیں اور علیحدہ علیحدہ پورے خدا ہیں اور تو وہ کو نسا حساب ہے جس کی رو سے وہ ایک ہو سکتے ہیں۔اس قسم کا حساب کس سکول یا کالج میں پڑھایا جاتا ہے۔کیا کوئی منطق یا فلاسفی سمجھا سکتی ہے کہ ایسے مستقل تین ایک کیونکر ہو گئے اور اگر کہو کہ یہ راز ہے کہ جو عقل انسانی سے برتر ہے تو یہ دھو کا وہ ہی ہے کیونکہ انسانی عقل خوب جانتی ہے کہ اگر تین کو تین کامل خدا کہا گیا تو تین کامل کو بہر حال تین کہنا پڑے گا نہ ایک 1 عیسائی حضرات بعض اوقات یہ کہا کرتے ہیں کہ تینوں خدائی وجودوں کا ایک ہو جانا کچھ بعید ازہ عقل بات نہیں۔کیا دنیا میں مختلف چیزوں کو ملایا نہیں جاتا ؟ لیکن سوال یہ ہے کہ تین ایسے خداؤں کو جو مستقل اور غیر متغیر وجود رکھتے ہیں۔باہم ملا کر ایک بنایا جاسکتا ہے اور کیا اس صورت میں ان کی کیفیت میں کچھ زیادتی نہ ہوگی۔تینوں خداؤں کو ملا کہ ایک خدا بنا نے کے نظریہ کے رد میں مسیح پاک علیہ السلام نے فانی جسموں کی مثال بیان فرمائی ہے حضور فرماتے ہیں :- تینوں مجسم خدا عیسائیوں کے زعم میں ہمیشہ کے لئے مجسم اور ہمیشہ کے لئے علیحدہ علیحدہ وجود رکھتے ہیں اور پھر بھی یہ تینوں مل کر ایک خدا ہے لیکن اگر کوئی بدل سکتا ہے تو ہمیں بہلاوے کہ باوجود اس دائمی تجسم اور تغیر کے یہ تینوں ایک کیونکہ ہیں۔بھلا ہمیں کوئی ڈاکٹر مارٹن کلارک اور پادری عماد الدین اور پادری تھا کہ داس کو باوجود ان کے علیحدہ علیحد ہ جسم کے ایک کر کے تو دکھلا دے۔ہم دعویٰ سے کہتے ہیں کہ اگر تینوں کو کوٹ کر بھی بعض کا گوشت بعض کے ساتھ بلا دیا جاوے پھر بھی جن کو خدا نے تین بنایا تھا ہر گنہ ایک نہیں ہو سکیں گے۔پھر جبکہ اس فانی جسم کے حیوان با وجود امکان تحلیل اور تفرق جسم کے ایک نہیں ہو سکتے۔پھر ایسے تین مجسم جن میں بموجب عقیدہ عیسائیاں تحلیل اور تفریق جائز نہیں کیونکر ایک ہو سکتے ہیں ی پس یہ بات بالبداہت غلط ثابت ہو جاتی ہے کہ تینوں کو ملا کہ ایک بنایا جاسکتا ہے۔حضرت چشمه مسیحی هنگام روحانی خزائن جلد نمبر ۲ سے - انجام آتھم صب روحانی خزائن جلد نمبر ہے