کسر صلیب — Page 130
نے معمولی سی بصیرت بھی عطا کی ہو اس دعوی کی غلطی کو معلوم کر لے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اسی بنیاد پر تثلیث پر کڑی نکتہ چینی کی ہے کہ یہ عقیدہ سراسر عقل کے خلاف ہے " حضور فرماتے ہیں : خدائے واحد لاشریک کو چھوڑنا اور مخلوق کی پرستش کرنا عقلمندوں کا کام نہیں ہے۔اور تین مستقل اور کامل اقنوم قرار دینا جو سب جلال اور قوت میں برائیہ ہیں اور پھر ان تینوں کی ترکیب سے ایک کامل خدا بنانا یہ ایک ایسی منطق ہے جو دنیا میں سیمیوں کے ساتھ ہی خاص ہے۔لے پھر فرماتے ہیں :- " تثلیث کا عقیدہ بھی ایک عجیب عقیدہ ہے۔کیا کسی نے سنا ہے کہ مستقل طور پر اور کامل طور پر تین بھی ہوں اور ایک بھی ہو۔اور ایک بھی کامل خدا اور تین بھی اور کامل خدا ہو۔عیسائی مذہب بھی عجیب مذہب ہے کہ ہر ایک بات میں غلطی اور ہر ایک امر میں لغزش ہے" سے ظاہر ہے کہ یہ منطق انسانی سمجھ سے ٹکراتی ہے۔تین خدا الگ الگ بھی کامل اور مکمل خدا ہوں اور پھر تینوں مل کر بھی ایک خدا ہی ہوں ، اور ان میں کوئی فرق اور امتیاز نہ ہو۔یہ عیسائی عقیدہ کی ایک ایسی غلطی ہے جس کا کوئی صحیح جواب عیسائیوں کے پاس نہیں ہے۔عیسائی لوگ اس عقدہ کو حل کرنے کے لئے مختلف تاویلات ضرور کرتے ہیں۔لیکن آنی کیفیت عذر گناہ بدتر از گناہ سے زیادہ نہیں ہوتی۔عیسائی کہتے ہیں کہ ہمیں تثلیث کا مجرم گرداننا بہت زیادتی ہے کیونکہ ہم تو اس بات کے قائل ہیں کہ باوجود اس امر کے کہ باپ، بیٹا اور روح القدس اپنی اپنی جگہ پر خُدا ہیں لیکن خدا پھر بھی ایک ہی ہے اور ہم تو حید کے قائل ہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس عذر کی تردید میں فرماتے ہیں :- افسوس کہ عیسائیوں کو دوسروں کے لئے تو فلسفہ یاد آجاتا ہے مگر اپنے گھر کی نا معقول باتوں سے فلسفہ کو چھو نے بھی نہیں دیتے" سے پھر آپ تحریر فرماتے ہیں :- لیکچر سیالکوٹ ۳ ۳۵ روحانی خزائن جلد ۲ شهر چشمه سیحی حال روحانی خزائن جلد ۲۰ به ۲۵۰۲۳ ه ست بچن صلا روحانی خزائن جلد ۱۰ + :