کسر صلیب

by Other Authors

Page 129 of 443

کسر صلیب — Page 129

۱۲۹ جیسا کہ مندرجہ بالا وضاحتوں سے واضح ہوتا ہے تثلیث کا مسئلہ سمجھنے کی بجائے مزید الجھتا جا رہا ہے۔بہر حال یہ مسئلہ عیسائیوں کا ہے ان کا فرض ہے کہ اس مسئلہ کی آسان وضاحت کریں کیونکہ وہی اس عقیدہ کو مانتے اور اس کا پر چارہ کرتے ہیں۔اور اس لحاظ سے گویا ان کو اس مسئلہ کی وکالت میں مدعی کی حیثیت حاصل ہے۔مدعی کا فرض ہوتا ہے کہ وہ دعوی کے مکمل دلائل بیان کرے اور پوری پوری وضاحت کرے۔حضرت مسیح پاک علیہ السلام نے بھی اس موقف کو اختیار فرمایا ہے۔آپ فرماتے ہیں :- " بار ثبوت مدعی کے ذمہ ہے جو تثلیث کا قائل ہے اس کا فرض ہے کہ وہ اس کے دلائل دے " لے تثلیث کی تردید میں دلائل کا سر صلیب سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے خداداد علم کلام کی روشنی میں عیسائیت کے اس مایہ ناز عقیدہ کا تار و پود بکھیر کر رکھ دیا ہے۔آپ نے تثلیث کے رد میں ایسے دلائل و براہین پیش فرمائے جن سے اس باطل عقیدہ کی حقیقت طشت ازبام ہو گئی اور ہر صاحب بصیرت نے بچشم خود جاء الحق وزهق الباطل کا نظارہ دیکھ لیا۔تثلیث کی تردید میں حضور علیہ السلام کے پیش کردہ دلائل مندرجہ ذیل ہیں :- پہلی دلیل عقیدہ تثلیث کی تردید میں آپ کی سب سے پہلی اور باطل شکن دلیل یہ ہے کہ تثلیث کا عقیدہ خلاف عقل ہے۔تثلیث کے علمبردار یہ کہتے ہیں کہ ہم توحید فی التثلیث یا کثرت فی الوحدت کے قائل ہیں جن کی وضاحت یہ کہتے ہیں کہ باپ، بیٹا اور روح القدس تینوں مکمل خدا ہیں لیکن یہ سب مل کر ایک خدا بنتے ہیں تین نہیں ہیں۔یہ وہ گورکھ دھندا ہے جو عیسائیت پیش کرتی ہے۔اس کے خلاف حضرت مسیح پاک علیہ السلام کا بنیادی اعتراض یہ ہے کہ یہ بات خلاف عقل ہے۔کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ تینوں وجود اپنی ذات میں مکمل خدا بھی ہوں لیکن پھر بھی خدا تین نہیں بلکہ ایک ہی ہو۔ایک انسان جس کو اللہ تعالی ه : - ملفوظات جلد سوم صلاته