کسر صلیب — Page 290
** کے ان تکاب پر پکڑنا درست سمجھا جا سکتا ہے جبکہ ان کو پہلے سے خبردار نہیں کیا گیا تھا۔اور کوئی بھی اس قانون کو جانتا نہ تھا۔پس حق یہ ہے کہ عدل کا سوال تو کتاب الله، وعده ، وعید، احکام، حدود اور شرائط کے نزول کے بعد ہی ہوتا ہے۔اس حوالہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ استدلال فرمایا ہے کہ کفارہ کی تعلیم سے قبل کے لوگوں پر گرفت اور ان کے بدلے کسی اور کو سزا دینا کسی طرح عدل کے مطابق نہیں سمجھا جاسکتا۔الغرض حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مذکورہ بالا حوالہ جات سے یہ بات پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ کفارہ کا مسئلہ عدل و انصاف کے سراسر خلاف ہے۔اس مسئلہ کو عیسائی حضرات عدل و انصاف کی بنیاد پر پیش کرتے ہیں حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اس سارہ سے عقیدہ کی بنیاد ہی بے انصافی اور ظلم پر ہے پھر اس فاسدہ مسئلہ سے قیام عدل کی توقع کیسے پوری ہو سکتی ہے۔یعنی تو یہ ہے کہ کفارہ کے مسئلہ میں نمسی حق مرحلہ پر بھی عدل ثابت نہیں ہوتا۔پس خلاصہ کلام یہ ہے کہ اس خلاف عدلی منصوبہ کو نہ خدا کی طرف منسوب کیا جا سکتا ہے اور نہ بطور ذریعہ نجات تسلیم کیا جاسکتا ہے : 14 ستر توی دلیل کفارہ کی تردید میں ایک اور دلیل یہ ہے کہ یہ مسئلہ رحم کے خلاف ہے۔عیسائی حضرات تو یہ کہتے ہیں یہ کہ مسیح کی قربانی کا مقصد ہی یہ تھا کہ کسی طرح خدا کا عدل اور رحم پورا ہو لیکن درحقیقت اس قصہ سے نہ عدل پورا ہوتا ہے نہ رحم۔رحم کا تقاضا تو یہ ہے کہ مجرم اور قصور وار کو بھی بخش دیا جائے۔اور اس کو سزادی جائے لیکن یہاں یہ عجیب قسم کا رحم ہے کہ خدا نے بظاہر بندروں پر تو رحم کیا کہ ان کے گناہوں اور بدکاریوں پر گرفت نہ کی لیکن دوسری طرف یہ ظلم کیا کہ اپنے معصوم اور بے گناہ اھو تے بیٹے کو بغیر کسی جرم کے صلیب پر لٹکا دیا۔اور سخت دلی سے قتل کروا دیا۔اب کوئی بتائے کہ کیا خدا کے رحم کی یہی کیفیت ہوتی ہے ؟ کیا رحم ومحبت کا تقاضا یہی تھا کہ چیختے چلاتے اکلوتے بیٹے کو صلیبی موت دے دی جائے اور اس کی رات بھر کی دردمندانہ دعاؤں سپر کان تک نہ دھرا جائے ؟ - ہم عیسائیوں سے یہ پوچھتے ہیں کہ اگر واقعی ان کا خدا رحیم تھا اور رحم کرنا چاہتا تھا تو اول تو اُسے گناہ معاف کر دینے چاہئیں تھے۔مگر ان کے عقیدہ کے مطابق وہ گناہ معاف نہ کر سکتا تھا تو اپنی رحم کر نے کی یہ صورت کیوں نہ اختیار کی کہ خود گناہ گاروں کی خاطر صلیب پر لٹک کر مر جاتا کیونکہ خدا کا مرنا عیسائیوں کے