کسر صلیب — Page 291
۲۹۱ H نزدیک کوئی عیب نہیں اور اس بات کی نوبت نہ آتی کہ خدا کا بیٹا ولدو نہ آہیں بھرتا ہوا اور ایلی ایلی نم سبقتانی کی فریاد کرتا ہوا صلیب پر اپنی جان دیتا۔گناہگاروں کو معاف کرنا اور اپنے بیٹے پر یہ ظلم یہ بات ہرگزہ رحیم نہیں کہلا سکتی۔عیسائی یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ مسیح صلیب پر کرے۔تین دن تک کر سے رہے اور پھر خدا نے ان کو زندہ کر دیا۔سوال یہ ہے کہ اگر خدا تین دن کے مردہ مسیح کو زندہ کر کے رحم کا سلوک کر سکتا ہے تو وہ براہ راست گناہگاروں کے گناہ کیوں نہیں بخش سکتا۔جبکہ ہم ایک گذشتہ دلیل کے ضمن میں دیکھ آئے ہیں کہ معاف کرنا اور توبہ قبول کرنا خدا کی صفت ہے اور اسی کا بندوں کو حکم دیا گیا ہے۔پھر یہ بھی سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر کفارہ رحم پر مبنی ہے تو خدا نے یہ کیا ظلم کیا کہ یہ نسخہ حضرت مسیح کے ذریعے ظاہر کیا ان سے پہلے کے لوگوں کو اس سے کیوں محروم رکھا گیا ؟ الفرض اس قسم کے مختلف اعتراضات پیدا ہوتے ہیں اور صاف معلوم ہوجا تا ہے کہ کفارہ کا رحم سے کوئی تعلق نہیں۔اور عیسائی کفارہ کو رحیم ہی کے سبب سے پیش کرتے ہیں۔پس ثابت ہوا کہ نہ ایسے کفارہ کی ضرورت ہے اور نہ اس میں حقیقتنا رحم پایا جاتا ہے۔اس سلسلہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :- و یہ بھی سمجھ میں نہیں آتا کہ زید کوئی گناہ کر سے اور تجہ کو اسکی عوض سولی پر کھینچا جائے۔یہ عدل ہے یا رحیم۔کوئی عیسائی ہم کو سبت لا د سے کالے پھر آپ فرماتے ہیں :- د عیسائی جب کفارہ کا اصول بیان کرتے ہیں تو اپنی تقریر کو خدا تعالیٰ کے رحم اور عدل سے شروع کیا کرتے ہیں مگر میں پوچھتا ہوں کہ جب زید کے بدلے پھانسی بگمہ کوئی تو یہ کو فسا انصاف اور رحم ہے ا سے پھر فرمایا : - "یہ خوب انتظام ہے کہ جس بات سے گریز تھا اسی کو یہ اقبیح طریق اختیار کر لیا گیا۔وا دیلا تو یہ تھا کہ کسی طرح عدل میں فرق نہ آد سے اور رحم بھی وقوع میں آجائے مگر ایک بے گناہ کے گلے پر ناحق چھری پھیر کر نہ عدل قائم رہ سکا نہ رحمت کره پھر آپ فرماتے ہیں :- ه -: - نور القرآن ما حاشیه مشت - ر- خ جلد : ه:- ملفوظات جلد اول ما : رخ ٩ ٣: كتاب البرية منك۔رخ جلد ١٣ :