کسر صلیب — Page 289
سزاوارہ اور مناسب ہے، کہ وہ عدل کرے لیکن جو گناہگار کو چھوڑ دے اور اس کے بدلہ میں کسی معصوم کو پکڑے تو اس کا یہ فعل ایسا ہوگا جس میں نہ عدل ہے اور نہ رحیم۔ایسا کام دیوانوں میں سے سب سے زیادہ گراہ شخص کے سوا اور کون کر سکتا ہے۔(0) " عیسائیوں کا یہ عقیدہ ہے کہ خدا تعالیٰ کا عدل بغیر کفارہ کے کیونکر گویا ہو، بالکل مہمل ہے۔کیونکہ ان کا یہ اعتقاد ہے کہ یسوع با عتبار اپنی انسانیت کے بے گناہ تھا مگر پھر بھی ان کے خدا نے یسوع پر ناحق ، تمام جہان کی لعنت ڈال کر اپنے عدل کا کچھ بھی لحاظ نہ کیا۔اس کی تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ ان کے خدا کو عدل کی کچھ بھی پرواہ نہیں۔۔۔۔۔۔۔یہ خوب انتظام ہے کہ جس بات سے گریز تھا اسی کو یہ اقبع طریق اختیار کر لیا گیا۔واویلا تو یہ تھا کہ کسی طرح عدل میں فرق نہ آوے اور رحم بھی وقوع میں آجائے مگر ایک بے گناہ کے گلے پر نامی مچھری پھیر کہ نہ عدم قائم رہ سکا ور نہ ہی لے پھر خدا کے عدل کا ایک تقاضا یہ بھی ہے کہ وہ اپنے اعلان کرنے کے بعد کسی غلطی پر گرفت کرے۔پس اس صورت میں یہ لازم آتا ہے کہ کفارہ کی تعلیم سے قبل گزرنے والے لوگوں سے مواخذہ نہ ہو لیکن عیسائی حضرات اس بات کے قائل ہیں کہ گذشتہ سب لوگوں کے گناہوں کی خطا بھی میسوع مسیح نے اُٹھالی ہے۔سوال تو یہ ہے کہ جب گذشتہ زمانے کے لوگوں کو حضرت مسیح کے اس ہونیو الے کفارہ کا علم ہی نہیں تھا تو ان کی سزا کیسی؟ اور ان کے بدلے کسی کو مورد لعنت بنانا کیسا ؟ کیونکہ عدل کا ایک تقاضا یہ ہے کہ جب تک پہلے سے اعلان اور اطلاع نہ ہو ، کوئی گرفت نہ کی جائے۔پس ظاہر ہوا کہ اگہ کفارہ مسیح سے قبل کے لوگوں کو گنہ گارہ قرار دیا جائے تو یہ بات عدل کے خلاف ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس سلسلہ میں فرماتے ہیں :- و اذا كانت المواخذات مشروطة بوعد الله تعالى ووعيده فكيف يجوز تعذيب احد قبل اشاعة قانون الاحكام وتشييده وكيف يجوز اخذ الأولين والآخرين - عند صد در معصية ما سبقها وعيد عند ارتكابها وما كان احد عليها من المطلعين فالحق ان العدل لا يوجد اثره الا بعد نزول كتاب الله ووعده و وعیده و احكامه وحدوده و شرائط له ترجمہ : جبکہ مواخذہ خدا تعالیٰ کے وعده و وعید کے ساتھ مشروط ہے تو پھر احکام کے قوانین کے اعلان اور وضاحت سے قبل کسی انسان پر گرفت کرنا کیسے جائز ہو سکتا ہے اور کس طرح اولین اور آخرین کو ه: کتاب البرية منك جلد ۳ ) : کرامات الصادتين مت جلدے :